ملک بدری کے حکم پر امریکہ نہ چھوڑنے والوں کو یومیہ 998 ڈالر جرمانہ ہوگا
ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کی حمایت پر یونیورسٹیوں کی فنڈنگ منجمد کر دی
امریکی امیگریشن پالیسی میں سختی، ٹرمپ انتظامیہ کا نیا فیصلہ
واشنگٹن، 9 اپریل (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی میں شدت لاتے ہوئے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق وہ افراد جنہیں امیگریشن جج کی جانب سے ملک بدری کا حکم دیا گیا ہے، اگر وہ امریکہ چھوڑنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں یومیہ 998 ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
جرمانے کی بنیاد 1996 کے قانون پر
یہ نیا اقدام 1996 کے ایک پرانے امیگریشن قانون پر مبنی ہے جسے عملی طور پر 2018 میں ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران نافذ کیا گیا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر ٹرمپ انتظامیہ اس قانون کو مزید سختی سے لاگو کرنے جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ پالیسی آئندہ پانچ سال تک برقرار رہے گی۔
تارکین وطن کی جائیداد ضبط کرنے کا عندیہ
ایک سینئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت ان افراد کی جائیدادیں ضبط کرنے پر بھی غور کر رہی ہے جو یہ یومیہ جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہوں گے۔ اس اقدام کا ہدف وہ 14 لاکھ افراد ہیں جنہیں امیگریشن جج نے پہلے ہی ملک بدر کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
"سی پی پی ہوم” ایپ کے ذریعے خود رپورٹ کرنے کی ہدایت
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ترجمان ٹریسیا میک لافلن نے کہا کہ تمام غیر قانونی تارکین وطن کو چاہیے کہ وہ "سی پی پی ہوم” موبائل ایپ کے ذریعے خود کو رپورٹ کریں تاکہ انہیں باقاعدہ طور پر ملک بدر کیا جا سکے۔ بصورت دیگر انہیں جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کا امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن جاری
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالتے ہی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا تھا، جس کا مقصد امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو سخت قوانین کے تحت ملک بدر کرنا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کی حمایت پر یونیورسٹیوں کی فنڈنگ منجمد کر دی
واشنگٹن،۹؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ٹرمپ انتظامیہ نے کورنل یونیورسٹی اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کو دیے جانے والی امریکی فنڈنگ روک دی ہے۔ امریکی حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ کورنل یونیرسٹی کے لیے 1 ارب ڈالر اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے لیے 790 ملین ڈالر کی فنڈنگ منجمد کی گئی ہے۔
منجمد کی گئی فنڈنگ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے محکموں صحت، تعلیم، زراعت، دفاع کی گرانٹ روک کر کی گئی ہے۔ حکام نے یہ بات اپنا نام ظاہر کیے بغیر بتائی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام سکولوں اور یونویرسٹیوں کو دھمکی دی ہے جو اداروں میں فلسطینیوں کے حق اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کو نہیں روکتے ہیں۔ گزشتہ ماہ کورنل اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سمیت 60 یونویرسٹیوں کو خط لکھا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے ہونے والے احتجاج کو نہیں روکتے ہیں تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے مطابق ہمیں میڈیا کی خبروں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ فنڈنگ روکی گئی ہے، لیکن سرکاری طور پر ایسی کوئی اطلاع ہمیں موصول نہیں ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ یونیورسٹی تمام تر تحقیقات کے لیے انتظامیہ سے تعاون کر رہی ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کا ریسرچ شعبہ جدیدیت اور زندگی بچانے والی ادویات کے سلسلے میں تحقیقات کرتا ہے۔ حال ہی میں دنیا کا سب سے چھوٹا ‘پیس میکر’ بنانے میں اہم تحقیقات کے لیے یونیورسٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اب ترجمان کا کہنا ہے کہ اب یہ تحقیقات یقینا مشکل میں پڑ جائیں گی۔
یاد رہے امریکی یونیورسٹیوں میں حالیہ عرصے کے دوران غزہ جنگ کے خلاف احتجاج کرنے اور فلسطینیوں کی حمایت کرنے والوں کو یہود دشمنی قرار دیا گیا ہے، اگرچہ ان احتجاج کرنے والوں میں بعض یہودی گروپ بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ انتطامیہ کا یونیورسٹیز کے خلاف کریک ڈان!
انسانی حقوق کے اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔ پچھلے ہی ہفتے کے دوران یونیورسٹیز کے لیے 9 ارب کی وفاقی فنڈنگ روکی گئی ہے۔ فیڈرل گرانٹس اور کنٹریکٹس ہارورڈ یونیورسٹی سے متعلق تھے۔
پرنسٹن یونیورسٹی نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حکومت نے ریسرچ کے شعبے کی درجنوں گرانٹس منجمد کر دی ہیں۔ گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے کولمبیا یونیورسٹی کے لیے 400 ملین کی فنڈنگ ختم کر دی ہے۔
🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ



