بین الاقوامی خبریں

امریکی ارب پتی بشار المصري کے خلاف حماس کی سہولت کاری پر مقدمہ دائر

امریکی خاندانوں نے واشنگٹن کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا

غزہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں حماس کی سرنگوں کا الزام

واشنگٹن، ۹ اپریل (اردو دنیا نیوز / ایجنسیز):فلسطینی نژاد امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت بشار المصري کے خلاف امریکی شہریوں نے واشنگٹن کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر حماس کے حملوں کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کر کے سہولت کاری کی۔

یہ مقدمہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں سے متاثر ہونے والے تقریباً 200 امریکی شہریوں کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جن میں حملے سے بچ جانے والے افراد اور متاثرین کے لواحقین شامل ہیں۔

مقدمے کی تفصیلات

عدالتی دستاویزات کے مطابق بشار المصري کی زیرِ ملکیت غزہ انڈسٹریل اسٹیٹ، دو لگژری ہوٹلز اور دیگر جائیدادوں کے نیچے حماس کی سرنگیں موجود تھیں، جنہیں حملے سے پہلے اور بعد میں استعمال کیا گیا۔ ان جائیدادوں کے اندر سے سرنگوں کے داخلی راستے موجود تھے، جبکہ زمین کے اوپر شمسی توانائی کے پینلز بھی نصب تھے تاکہ سرنگوں کو توانائی فراہم کی جا سکے۔

بشار المصري کا ردعمل

بشار المصري کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ:"یہ مقدمہ جھوٹ پر مبنی اور سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ایک فلسطینی کاروباری شخصیت کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔"

اہم قانونی موڑ

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی شہری پر حماس کی اس قدر بڑی سطح پر مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مقدمے میں الزامات ثابت ہو گئے تو بشار المصري کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف ان کی کاروباری سرگرمیوں بلکہ فلسطینی امریکی برادری پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button