قابض اسرائیلی جیل اسپتال فلسطینی قیدیوں کی اذیت گاہ بن چکا، لرزہ خیز مظام کا انکشاف
عوفر صہیونی جیل میں فلسطینی قیدیوں پر بدترین تشدد، علاج سے محرومی اور بدسلوکی کا انکشاف
غزہ، ۹ اپریل (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)فلسطینی اتھارٹی کے قیدیوں کے امور سے متعلق کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ بدنامِ زمانہ صہیونی جیل "عوفر” میں فلسطینی قیدیوں کو شدید جسمانی، نفسیاتی اور طبی اذیتوں کا سامنا ہے۔ کمیشن کے وکیل کے مطابق گزشتہ ماہ سیکشن 25 میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا، جس میں آنسو گیس، مار پیٹ، برہنہ تلاشی اور زبانی بدسلوکی شامل ہے۔
قیدیوں پر تشدد کی تفصیلات
قیدیوں کے وکیل نے اپنے حالیہ دورے میں بتایا کہ اسرائیلی قابض افواج نے قیدیوں پر آنسو گیس کے گولے داغے، انہیں فرش پر پیٹھ کے بل لٹا کر ہتھکڑیاں پہنائیں، انہیں برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بدکلامی کی گئی۔ طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے سبب جیل میں خارش جیسی جلدی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے، جبکہ جیل انتظامیہ نے بستر، ٹوتھ پیسٹ اور صفائی کا سامان فراہم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
مریض قیدی، نظرانداز شدہ حالت
بیت دوقہ، القدس سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ قیدی محمد ریان کو شدید جسمانی درد لاحق ہے۔ انہیں گرفتار ہونے سے قبل ایک حادثے میں جسمانی اعضا کا نقصان ہوا تھا — پورا دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں ضائع ہو چکی ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ محمد ریان کو خصوصی طبی نگہداشت، درد کش ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور حرارت کی ضرورت ہے، مگر انہیں کچھ بھی مہیا نہیں کیا جا رہا۔
اسی طرح رام اللہ کے قدورا کیمپ کے رہائشی 25 سالہ قیدی عبدالحفیظ غزاوی کو شدید خارش کی شکایت ہے، جس کے باعث اس کے جسم پر زخم اور سوراخ ظاہر ہو چکے ہیں، اور وہ رات بھر سو نہیں پاتا۔ رام اللہ ہی کے علاقے سلواد سے تعلق رکھنے والے قیدی احمد سراج کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہیں نہ صرف ملاقاتوں سے محروم کیا گیا ہے بلکہ ان پر جسمانی تشدد کر کے سینے میں فریکچر کیا گیا، جس کے باعث وہ سانس کی تکلیف اور دل کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی حالت
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی 23 جیلوں اور حراستی مراکز میں اس وقت 10,000 سے زائد فلسطینی قیدی موجود ہیں، جن میں 3,369 انتظامی قیدی اور کم از کم 365 بچے شامل ہیں۔ یہ قیدی مختلف جیلوں جیسے عوفر، مجد اور دیمون میں قید ہیں۔
رملہ جیل کے قیدیوں پر تشدد
فلسطینی اسیران کے امور کے کلب اور سرکاری ادارے نے کہا ہے کہ رملہ جیل سے ملحقہ اسپتال میں قیدیوں کو بدترین حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ قیدی شدید بیماریوں اور زخموں کے باوجود علاج سے محروم ہیں، اور انہیں مسلسل جسمانی و نفسیاتی اذیتوں میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔
طولکرم سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ قیدی ابراہیم ایوب شلہوب کو دسمبر 2024 میں گرفتاری کے دوران قابض افواج نے 14 گولیاں ماریں۔ وہ شدید درد اور بولنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ جیل انتظامیہ انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دیتی ہے۔
دیگر کیسز
اسی طرح قلقیلیہ سے تعلق رکھنے والے قیدی محمد فیومی کے جسم میں گولیاں لگنے سے سوراخ ہو گئے تھے اور وہ چلنے سے قاصر ہو گئے تھے، تاہم اب ان کی حالت کچھ بہتر ہے۔ انہیں نومبر 2024 میں گرفتار کیا گیا اور چھ ماہ کی انتظامی حراست سنائی گئی، جس میں توسیع کی جا چکی ہے۔
صور باھر، القدس سے تعلق رکھنے والے قیدی ناصر موسی عبد ربہ کو 4 مارچ کو دو میٹر کے فاصلے سے ربڑ کی گولی ماری گئی، بعد ازاں ایک اسرائیلی محافظ نے جان بوجھ کر ان کے پاؤں پر ٹھوکر مار کر مزید نقصان پہنچایا۔ عبد ربہ 1988 میں گرفتار ہو چکے تھے اور بعد ازاں رہائی پائی، لیکن 2014 میں دوبارہ گرفتار کیے گئے۔ اب ان کی رہائی 8 اکتوبر 2025 کو متوقع ہے۔



