بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹرمپ انتظامیہ نے ہزاروں افغان اور کیمرونی تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کر دی

افغان مہاجرین کی پیرول حیثیت بھی خطرے میں

واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ میں تارکینِ وطن کے خلاف اپنی سخت پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی (DHS) نے ہزاروں افغان اور کیمرونی باشندوں کی عارضی محفوظ حیثیت (TPS) ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے وہ افراد براہِ راست متاثر ہوں گے جو کئی برسوں سے TPS کے تحت قانونی تحفظ کے ساتھ امریکہ میں مقیم تھے۔ TPS کا اطلاق ان ممالک کے شہریوں پر ہوتا ہے جہاں مسلح تنازع، قدرتی آفات یا دیگر سنگین انسانی بحران جاری ہوں۔

اس وقت تقریباً 14,600 افغان شہری TPS کے تحت قانونی حیثیت رکھتے تھے، جو مئی 2025 میں اس سے محروم ہو جائیں گے۔ کیمرون سے تعلق رکھنے والے تقریباً 7,900 افراد کو بھی جون 2025 میں یہی انجام درپیش ہو گا۔ یاد رہے کہ TPS کا مقصد ملک بدری سے وقتی تحفظ فراہم کرنا اور متاثرہ افراد کو قانونی طور پر روزگار کی اجازت دینا ہوتا ہے، جس کی مدت 6 سے 18 ماہ تک ہو سکتی ہے اور جسے محکمہ داخلی سلامتی وقتاً فوقتاً تجدید کر سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے سابقہ دورِ حکومت (2017-2021) میں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر اقدامات کیے تھے اور ساتھ ہی TPS جیسے قانونی پروگراموں کو بھی محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگرچہ ماضی میں کئی کوششیں عدالتوں کی مداخلت سے رک گئیں، تاہم حالیہ فیصلہ ایک بار پھر امیگریشن پالیسی کی سختی کا مظہر ہے۔ مارچ 2025 میں ایک امریکی جج نے وینزویلا کے TPS کو ختم کرنے کے اقدام کو نسلی امتیاز قرار دے کر رد کر دیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پالیسی اب بھی قانونی چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے۔

افغان مہاجرین کی پیرول حیثیت بھی خطرے میں

2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد، امریکہ نے 82,000 افغانوں کو نکالا جن میں سے 70,000 سے زائد افراد "پیرول” پر امریکہ داخل ہوئے۔ یہ ایک عارضی داخلہ اجازت تھی جو عام طور پر دو سال کے لیے مؤثر ہوتی ہے۔

محکمہ داخلی سلامتی (DHS) نے 2023 میں تصدیق کی تھی کہ افغانستان میں حالات ایسے ہیں جو TPS کی مکمل ضمانت دیتے ہیں، تاہم اب یہ موقف تبدیل ہو چکا ہے۔ اب DHS نے متعدد افغان شہریوں اور دیگر مہاجرین کی پیرول حیثیت منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

محکمے کی ترجمان کے مطابق، متاثرہ افراد کو CBP ہوم ایپ کے ذریعے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کا نوٹس دیا جا رہا ہے، بعض صورتوں میں صرف سات دن کی مہلت کے ساتھ۔ DHS کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ان کے "صوابدیدی اختیار” کے تحت کیے جا رہے ہیں۔یہ پیغامات حالیہ دنوں میں یوکرینی باشندوں کو بھی غلطی سے موصول ہوئے تھے۔

ٹی پی ایس (TPS) کیا ہے؟

TPS ایک خصوصی قانونی حیثیت ہے جو ان ممالک کے شہریوں کو دی جاتی ہے جہاں:

  • مسلح تصادم جاری ہو

  • قدرتی آفات آئی ہوں

  • یا کوئی اور انسانی بحران موجود ہو

یہ تحفظ چھے سے 18 ماہ تک مؤثر ہوتا ہے اور ملک بدری سے روکنے کے ساتھ ساتھ قانونی روزگار کی اجازت بھی فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button