
ڈگ وجے سنگھ کا سوال: "اگر مندر ٹرسٹ میں غیر ہندو نہیں، تو وقف بورڈ میں غیر مسلم کیوں؟”
"کیا رام مندر ٹرسٹ میں مسلمان ممبر ہو سکتے ہیں؟"
بھوپال، 12 اپریل (اردو دنیا نیوز / ایجنسیز):وقف (ترمیمی) بل 2025 پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس بل کے خلاف مرشد آباد، مغربی بنگال میں ہونے والا احتجاج پرتشدد ہوگیا، جس پر ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ریاست میں اس قانون کو نافذ نہیں ہونے دیں گی۔
اسی تناظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجے سنگھ نے ہفتہ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا:
"کیا مندر کے ٹرسٹ میں غیر ہندو افراد ممبر بن سکتے ہیں؟ اگر وقف بورڈ میں غیر مسلموں کو شامل کیا جائے گا، تو کیا ہندو خانقاہوں میں دیگر برادریوں کے لوگوں کو شامل کیا جا سکتا ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ رام مندر ٹرسٹ کے قواعد میں یہاں تک لکھا گیا ہے کہ وہاں کا کلکٹر بھی ہندو ہوگا۔"میرا ماننا ہے کہ مندر میں صرف ہندو ہوں اور وقف میں صرف مسلمان، تب ہی مذہبی خودمختاری اور برابری برقرار رہے گی۔”
26/11 حملے کا تذکرہ اور ہیمنت کرکرے کا ذکر
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے، ڈگ وجے سنگھ نے 26/11 کے دہشت گردانہ حملے سے متعلق اپنی پرانی گفتگو دہرائی۔ انہوں نے کہا:”جس دن حملہ ہوا، میں نے ہیمنت کرکرے سے بات کی تھی۔یاد رہے کہ ڈگ وجے سنگھ نے 2010 میں بھی اسی طرح کا بیان دیا تھا، جس پر کافی تنازع ہوا تھا۔
سال 2010 میں کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجے سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ممبئی دہشت گرد حملوں سے قبل اینٹی ٹیررزم اسکواڈ (ATS) کے سابق سربراہ ہیمنت کرکرے نے انہیں ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کی تفتیش کے دوران انہیں دائیں بازو (رائٹ ونگ) کی تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔انھوں نے ایک تنظیم کے بارے میں بتایا جس کے افراد بم دھماکوں میں ملوث تھے اور اسے دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔”ڈگ وجے سنگھ کا کہنا تھا کہ ہیمنت کرکرے کو آر ایس ایس (RSS) سے وابستہ افراد نشانہ بنا رہے تھے اور انہوں نے کرکرے کی شہادت کا ذمہ دار بھی آر ایس ایس کو ٹھہرایا تھا۔
واضح رہے کہ ہیمنت کرکرے نومبر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملوں کے دوران فائرنگ کی زد میں آ کر شہید ہو گئے تھے۔ وہ دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔
دیویندر فڑنویس نے ان کے بیان کو "احمقانہ” قرار دے کر نظر انداز کرنے کی بات کہی۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے جمعہ کے روز کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ پر 2010 میں دیے گئے 26/11 ممبئی حملے سے متعلق متنازع بیان پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"سب سے پہلے تو، میں ایسے لوگوں کو جواب دینا ہی مناسب نہیں سمجھتا جو بے وقوفوں کی طرح بات کرتے ہیں۔”
فڑنویس نے مزید کہا:"جب اجمل قصاب کو پھانسی دی گئی، اور اس کے بعد جب ڈیوڈ ہیڈلی کا بیان ہندوستانی عدلیہ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا، تو یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ یہ پوری سازش پاکستان میں تیار کی گئی تھی۔”
تہور رانا سے این آئی اے کی تفتیش
دوسری طرف، ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور رانا کو بھارت لائے جانے کے بعد سیاست مزید گرما گئی ہے۔ جمعہ کو این آئی اے نے اس سے تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔
🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ



