متحدہ عرب امارات کا انقلابی قدم: بچوں کو ابتدائی جماعتوں سے مصنوعی ذہانت سکھائی جائے گی
سرکاری تعلیمی اداروں میں یہ اہم مضمون شامل کر لیا جائے گا۔
دبئی، 6؍ اپریل (اردو دنیا.اِن/ایجنسیز):متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اعلان کیا ہے کہ اگلے تعلیمی سال سے ملک کے تمام سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم ابتدائی جماعتوں سے ہی شروع کر دی جائے گی۔
انہوں نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کیا، جس میں کہا گیا کہ اماراتی کابینہ نے مصنوعی ذہانت کے سلیبس کی منظوری دے دی ہے جو پہلی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک پڑھایا جائے گا۔ اس سلیبس کے ذریعے طلبہ کو AI کے بنیادی تصورات، ڈیٹا کا استعمال، سافٹ ویئر اور ایلگورڈمز جیسے اہم موضوعات پر مہارت حاصل ہو گی۔
شیخ محمد بن راشد نے کہا:”ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے گہرا ادراک و سمجھ بوجھ حاصل کریں، اس کے تکنیکی پہلو اور اخلاقیات سے واقف ہوں، تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو معاشرے کے لیے فائدہ مند بنا سکیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے جدید تقاضوں کے مطابق بچوں کو ضروری معلومات، مہارتیں اور جدید ٹیکنالوجی کا شعور فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تاکہ وہ مستقبل میں عالمی میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
وزیر تعلیم سارہ الامینی نے اس فیصلے کو امارات کی مستقبل پر نظر رکھنے والی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم نئی نسل کو ترقی یافتہ اور باصلاحیت بنانے کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔
اماراتی خبر رساں ادارے کے مطابق، امارات دنیا کا پہلا ملک ہوگا جو اسکول کی سطح پر بچوں کو باقاعدہ طور پر مصنوعی ذہانت کا نصاب پڑھائے گا۔ یہ نصاب درج ذیل سات بنیادی شعبوں پر مشتمل ہوگا:
-
مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات
-
ڈیٹا کا استعمال اور اہمیت
-
ایلگورڈیزم کی بنیاد
-
سافٹ ویئر اور پروگرامنگ
-
اخلاقی شعور
-
حقیقی دنیا میں AI کا اطلاق
-
جدید ٹیکنالوجی کے رجحانات
مزید برآں، حکومت مختلف منصوبوں، پالیسی سازی اور سماجی ترقی میں بھی مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لائے گی تاکہ جدت اور ترقی کی راہیں مزید ہموار کی جا سکیں۔



