محمد بن سلمان سے امریکی صدر نے ایلون مسک کا تعارف کرایا ، سام آلٹمین نے بھی ملاقات کی
سعودی عرب اورامریکہ کے دفاع و دیگر شعبوں میں معاہدے
🇺🇸 صدر ٹرمپ کا دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ سعودی عرب
الریاض:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے چار روزہ دورے کے آغاز میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچنے ، جہاں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان توانائی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوگئے ۔ عرب میڈیا کے مطابق ریاض میں آج منگل کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قصرِ یمامہ میں سعودی-امریکی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں امریکی صدر ٹرمپ اور محمد بن سلمان نے معاہدوں پر دستخط کیے ۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان توانائی، دفاع اور معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کئے گئے ۔سعودی عرب کی مسلح افواج کی تربیت اور تکنیکی تعاون کے لیے مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے گئے ۔ اس کے علاوہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان صحت اور طبی ریسرچ میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے ۔امریکی صدر ٹرمپ دنیا کے بیشتر ممالک پر محصولات عائد کرنے کے بعدنئی سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے کے حصول کے لئے اب تیل کی دولت سے مالامال مشرق وسطی کے چار روزہ دورہ کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب پہنچ گئے
۔سعودی ولی عہد نے امریکی صدر کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا اور روایتی قہوہ بھی پیش کیا ۔اس سے قبل ٹرمپ آج منگل کی صبح امریکی صدارتی طیارے کے ذریعے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے ۔ مملکت کی حدود میں داخلے کے بعد ان کے طیارے کی ہمراہی سعودی فضائیہ کے “ایف 15” جنگی طیارے کر رہے تھے ۔ امریکی صدر کے ساتھ ایک بڑا وفد بھی آیا ہے جس میں متعدد وزرا اور اعلیٰ سرکاری شخصیات شامل ہیں۔امریکہ میں متعینہ سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کا دیرینہ اتحاد مسقتبل کیلئے ایک نئی بصیرت فراہم کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی سرمایہ کاری کی بدولت امریکہ میں لاکھوں ملازمتیں پیدا ہوچکی ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات کی گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے ۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے یمامہ محل میں مشہور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کا سعودی ولی عہد سے تعارف کرایا۔معروف کمپنی ‘اوپن اے آئی’ کے سی ای او سام آلٹمین نے بھی ولی عہد سے ملاقات کی۔ سام آلٹمین اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں کیونکہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تاریخی دورہ سعودی عرب پر ہمراہ ہیں۔
20 جنوری 2024 کو دوبارہ امریکہ کے صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے باضابطہ غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔ اس چار روزہ دورے کے دوران وہ متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز کرتے ہی ٹرمپ نے پہلا فون سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنے کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں بھی ٹرمپ نے پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہی کیا تھا۔
سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بنیاد تقریباً 80 سال پرانی ہے۔ ان تعلقات میں سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون شامل ہے، جس نے دونوں ملکوں کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی بااثر پارٹنرز میں شامل کر دیا ہے۔
ریاض میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کی گہرائی اور مستقبل کے تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ولی عہد نے دونوں ممالک کے درمیان خصوصی اور اسٹریٹجک نوعیت کے تعلقات کو سراہا۔



