قومی خبریں

پہلگام حملہ: دہشت گردوں کے پوسٹر جاری، اطلاع دینے والے کو 20 لاکھ انعام

پولیس نے تین مشتبہ دہشت گردوں کے خاکے جاری کیے

جموں، 13 مئی (اردو دنیا/ایجنسیز):جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے خوبصورت علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو پیش آنے والے خونی واقعے کے بعد پولیس نے حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خاکے جاری کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شوپیاں کے مختلف علاقوں میں یہ پوسٹر چسپاں کیے گئے ہیں، جن میں ان دہشت گردوں کی شناخت کے لیے عوام سے مدد طلب کی گئی ہے۔ ہر دہشت گرد کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والے کو 20 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا، جب کہ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ خاکوں میں تین دہشت گرد شامل ہیں، جن پر 22 اپریل کو پہلگام کے مشہور سیاحتی مقام بیسران میں سیاحوں پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب 26 سیاح پہاڑوں پر گھومنے کے لیے بیسران پہنچے تھے، جہاں ان پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے ضلع پلوامہ کے ترال اور اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقوں میں دو دہشت گردوں کی نشاندہی کی، جن کے گھروں کو 25 اپریل کو منہدم کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ترال کے رہنے والے آصف شیخ اور بجبہاڑہ کے عادل ٹھوکر اس حملے میں براہ راست ملوث تھے۔ ٹھوکر کو اس حملے کا مرکزی ملزم تصور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عادل ٹھوکر 2018 میں پاکستان گیا تھا، جہاں اس نے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔ 2024 میں جموں و کشمیر واپس آنے کے بعد وہ پاکستانی دہشت گرد گروپوں کے لیے مقامی گائیڈ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اسی طرح آصف شیخ کے بھی اس واقعے سے تعلق کی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس نے جو خاکے جاری کیے ہیں ان میں ٹھوکر سمیت تین دہشت گردوں کی تصاویر موجود ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس ان دہشت گردوں کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں۔

قابل ذکر ہے کہ پہلگام حملے کے بعد بھارتی فوج نے بڑا جوابی قدم اٹھایا اور "آپریشن سندور” کے تحت پاکستانی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن میں متعدد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

یہ کارروائی جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف جاری سخت مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ریاست میں امن و امان قائم کرنا اور سیاحتی شعبے کو محفوظ بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button