اگر ہم نہ ہوتے تو غزہ میں کوئی اسرائیلی قیدی زندہ نہ بچتا، ٹرمپ کا دعوی
ایف 35 کی ترکیہ کو فروخت پر اسرائیل کی تشویش: خطے میں عسکری برتری خطرے میں
واشنگٹن،۱۵؍مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دو روزہ سرکاری دورے کے بعد بدھ کی شام قطر روانگی سے قبل ایک حیران کن بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ موجود نہ ہوتا تو آج غزہ میں کوئی بھی اسرائیلی قیدی زندہ نہیں بچتا۔
صدر ٹرمپ نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اسرائیلیوں نے بہادری سے جنگ لڑی اور وہ داد کے مستحق ہیں، لیکن میرے عوام بھی بہت زیادہ تعریف کے حقدار ہیں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ "اگر امریکہ نہ ہوتا تو اسرائیلی امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر زندہ نہ بچتا اور نہ ہی کوئی اور یرغمالی۔”
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے دورے میں اسرائیل کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے عرب ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات سب کے لیے فائدہ مند ہیں۔
امریکی صدر کا یہ دورہ ان کے دوسرے صدارتی دور کی پہلی غیر ملکی سرکاری دورے کا دوسرا مرحلہ ہے۔ اس سے قبل وہ سعودی عرب میں خلیجی امریکی سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فوری فراہمی پر زور دیا۔
ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ کو ایف 35 طیارے بیچنے کے امکان پر صہیونی ریاست پریشان
واشنگٹن، ۱۵؍مئی (اردو دنیا.اِن/ایجنسیز):قابض اسرائیل نے امریکہ کو اپنے سخت تحفظات سے آگاہ کیا ہے کہ اگر جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ایف 35 کی فروخت ترکیہ کو کی گئی، تو خطے میں صرف اسرائیل کی اجارہ داری خطرے میں پڑ جائے گی۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت” نے اعلیٰ اسرائیلی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو متعدد پیغامات بھیجے ہیں، جن میں اس مجوزہ سودے پر سخت مخالفت ظاہر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے خطے میں اسرائیل کی فوجی برتری کمزور ہو سکتی ہے۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی تشویش اس وقت اور بھی بڑھ گئی ہے جب ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے حالیہ مہینوں میں قابض اسرائیل کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کیا ہے۔ ایردوآن نے قابض اسرائیل کو "دہشت گرد ریاست” قرار دیا اور کہا کہ "اللہ صہیونی اسرائیل کو تباہ کرے۔” ان بیانات نے قابض اسرائیل کو سفارتی سطح پر پریشان کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے ترکیہ پر سخت تنقید کی تھی اور ایف 35 طیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ لیکن موجودہ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ اس پالیسی پر نظرثانی کر رہے ہیں، جس سے قابض اسرائیل کے حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر جب امریکہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو بھی جدید ہتھیاروں کی فروخت پر غور کر رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی خارجہ اور سکیورٹی کمیٹی کو اس معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل اس مجوزہ ڈیل کے خلاف سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ڈیل کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
"یدیعوت احرونوت” کا کہنا ہے کہ امریکہ ترکیہ کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے، اور یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ ٹرمپ اور ایردوآن کے درمیان قریبی تعلقات اس معاہدے کو ممکن بنا سکتے ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل "فوکس نیوز” نے 21 مارچ کو اپنی رپورٹ میں دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ ترکیہ کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، اگر دونوں ممالک کے درمیان ایسا معاہدہ ہو جائے جس کے تحت ترکیہ کی ملکیت میں موجود روسی دفاعی نظام "ایس 400” کو ناقابل استعمال بنا دیا جائے۔
فوکس نیوز کے مطابق امریکہ کو اس سودے کے لیے "کیٹسہ (CAATSA)” قانون کے تحت ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی، جو ان ممالک پر لاگو ہوتا ہے جو امریکہ کے حریف ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کرتے ہیں۔
خلیجی دورے کا دوسرا مرحلہ: صدر ٹرمپ کی قطر آمد
دوحہ/واشنگٹن، ۱۵؍ مئی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز قطر پہنچ گئے، جو ان کے خلیجی دورے کا دوسرا مرحلہ ہے۔ سعودی عرب کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے دارالحکومت دوحہ کا رخ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کی آمد پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ ٹرمپ کے صدارتی طیارے ایئر فورس ون کو قطری لڑاکا طیاروں نے محفوظ حصار میں لے کر ایئرپورٹ تک پہنچایا، جو ان کی اعلیٰ سیکیورٹی کا مظہر تھا۔ اسی نوعیت کا حفاظتی حصار منگل کو ریاض میں سعودی ایئر فورس کی طرف سے بھی فراہم کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق قطر نے صدر ٹرمپ کو 400 ملین ڈالر مالیت کا ایک پرتعیش، جدید اور اعلیٰ سہولیات سے آراستہ صدارتی طیارہ بطور تحفہ پیش کرنے کی پیشکش کی ہے، جو مستقبل میں نیا ایئر فورس ون بن سکتا ہے۔
امریکہ اور قطر کے تعلقات اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران توقع کی جا رہی ہے کہ قطر امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں امریکہ کے کردار کو نئے انداز میں ترتیب دیا جا رہا ہے، اور قطر اس تناظر میں ایک اہم اتحادی کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف: ایران کے معاملے پر قطر نے ہماری بڑی مدد کی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مسئلے پر قطر نے امریکہ کی بہت زیادہ مدد کی ہے۔ انہوں نے یہ بات قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی، جو ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "ہم نے ایک دوسرے کو پسند کیا اور دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے اعلیٰ سطح پر مل کر کام کیا۔” انہوں نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ اور قطر کے درمیان تجارتی اور دفاعی معاہدے طے پا گئے ہیں، جن سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
بوئنگ کا 200 ارب ڈالر کا معاہدہ
قطری امیر کے اس دورے کے دوران، قطر ایئرویز نے امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے 160 طیارے خریدنے کا 200 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ نہ صرف معاشی اہمیت کا حامل ہے بلکہ امریکہ قطر تعلقات میں ایک نیا موڑ بھی ہے۔
خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ قطر اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا: "ہم سب چاہتے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو اور ہمیں امید ہے کہ اس بار یہ ممکن ہو سکے گا۔”
انہوں نے امریکی صدر کی شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "میں جانتا ہوں کہ آپ ایک پرامن شخصیت ہیں اور اس خطے میں امن لانا چاہتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ قطر اور امریکہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ روس اور یوکرین جیسے تنازعات میں بھی امن کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری اور توانائی پر گفتگو
امیر قطر نے پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ قطر اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دائرہ سرمایہ کاری، توانائی اور امن کی کوششوں تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ قطر 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے حاصل شدہ تجربات 2026 کے امریکی ورلڈ کپ کے منتظمین کے ساتھ شیئر کرے گا۔
خلیجی دورے کا اہم پڑاؤ
ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وہ سعودی عرب کے دورے کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے، جہاں امیر قطر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔



