بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ میں اسرائیلی بربریت اور بھوک کی تباہ کاری: حماس کا عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا: بچے بھوک، بیماری اور خاموشی کے شکار

غزہ، ۱۵ مئی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): غزہ اس وقت ایک بے مثال انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں اسرائیلی محاصرے اور عالمی برادری کی خاموشی نے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچے ہیں، جو غذائی قلت، بیماریوں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر کے 2,90,000 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جب کہ ایک لاکھ پچاس ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی فوری طبی امداد درکار ہے۔

طبی سہولیات ختم، ویکسین ناپید، غذائی سپلیمنٹس معدوم

اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ مکمل ناکہ بندی نے غزہ کو دوا، خوراک اور ویکسین سے محروم کر دیا ہے۔ فلسطینی ہلال احمر کے مطابق، بچوں کے لیے مخصوص غذائیں جیسے F-75 اور F-100 مکمل ختم ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق، بچے نہ چل سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں، اور ہر ماہ 180 سے 240 بچے غذائی قلت کے باعث اسپتال لائے جاتے ہیں۔ چھ لاکھ سے زائد بچے ایسی بیماریوں کے خطرے میں ہیں جن سے ویکسین کے ذریعے بچا جا سکتا تھا۔ یہ صورتحال آنے والی نسل کے مستقبل کو بھی تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

 اسرائیل بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے:حماس

حماس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل دو ملین سے زائد فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ "مرکز اطلاعات فلسطین” کے مطابق، غزہ پر 70 دنوں سے زائد عرصے سے مکمل ناکہ بندی جاری ہے، جس کے دوران بنیادی اشیاء کی ترسیل مکمل طور پر بند ہے۔ حماس نے کہا کہ اسرائیل کی یہ پالیسی فاشزم اور نسل کشی کی بدترین مثال ہے، اور عالمی برادری کی خاموشی ایک مجرمانہ بے حسی ہے جو بین الاقوامی قوانین سے صریح انحراف ہے۔

اسرائیلی بمباری اور عالمی بے حسی: حماس کا فوری اقدام کا مطالبہ

بدھ کے روز جبالیہ کیمپ پر قیامت خیز بمباری میں 54 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حماس نے کہا کہ یہ حملے سیاسی انتقام پسندی کا نتیجہ ہیں، جس کا مقصد شہری آبادی کو خوفزدہ کرنا اور جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، صرف بدھ کی صبح سے 70 شہادتیں ہو چکی ہیں، اور غزہ کا صحت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ حماس نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور مسلم ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور اسرائیلی جرائم کو روکا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button