بین الاقوامی خبریںسرورق

شام پر 46 سال سے جاری پابندیاں: کیا ختم ہو رہی ہیں؟

شام پر پابندیاں کب اور کیوں لگیں؟

دمشق:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی درخواست پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام پر عائد بعض پابندیاں ہٹانے کا اعلان ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شامی صدر احمد الشرع نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو اپنے ملک کی تعمیر نو کے لیے ایک "اہم سنگِ میل” قرار دیا۔ تاہم، اس اعلان کے بعد یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ شام پر عائد کن پابندیوں کو واقعی ختم کیا جا رہا ہے اور ان پابندیوں کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟


شام پر پابندیاں کب اور کیوں لگیں؟

شام پر امریکی پابندیوں کی تاریخ دسمبر 1979 سے شروع ہوتی ہے، جب امریکہ نے شام کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والی ریاست قرار دیا تھا۔ اس وقت دفاعی برآمدات، دوہرے استعمال کی مصنوعات (جن کا استعمال فوجی اور سول دونوں مقاصد کے لیے ہو سکتا ہے)، اور مالیاتی و تجارتی سرگرمیوں پر مختلف قسم کی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

بعد ازاں، مئی 2004 میں امریکی کانگریس نے ’’شام کا احتساب اور لبنانی خودمختاری کی بحالی ایکٹ‘‘ منظور کیا، جس نے ان پابندیوں کو مزید سخت کر دیا۔ اس قانون کے تحت امریکہ نے شام کے ساتھ درآمدات اور برآمدات پر مزید رکاوٹیں عائد کیں۔


2011 کے بعد کی پابندیاں اور خانہ جنگی

2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد امریکہ نے شامی حکومت، صدر بشار الاسد، ان کے خاندان اور قریبی وزارتی و اقتصادی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ ان پابندیوں میں اثاثوں کی منجمدی، سفری رکاوٹیں، اور امریکی کمپنیوں کے شامی اداروں سے تعلقات پر مکمل پابندی شامل تھی۔

یہ پابندیاں اس وقت مزید سخت ہو گئیں جب 2020 میں امریکہ نے "قیصر قانون” (Caesar Act) نافذ کیا۔ اس قانون کے تحت شامی حکومت کے ساتھ مالی یا تجارتی لین دین کرنے والے کسی بھی ادارے یا فرد پر پابندیاں لگائی گئیں۔ اس میں تیل، گیس، اور تعمیرات جیسے اہم شعبے بھی شامل تھے۔ یہاں تک کہ بشار الاسد کی اہلیہ اسماء الاسد کو بھی ان پابندیوں کی زد میں لایا گیا۔


قیصر قانون کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

قیصر قانون کا مقصد شامی حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ بنانا تھا۔ یہ قانون صدر بشار الاسد اور ان کے اتحادیوں کے خلاف انتہائی سخت اقدامات پر مشتمل تھا اور اس نے شام کی اقتصادی بحالی میں بین الاقوامی رکاوٹیں پیدا کیں۔ اس قانون کی بدولت امریکہ نہ صرف شام کو براہِ راست امداد نہیں دے سکتا تھا بلکہ ایسے کسی بھی غیر ملکی ادارے یا ملک پر بھی پابندیاں لگا سکتا تھا جو شام کی تعمیر نو میں مدد کرے۔

البتہ، انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔


امریکی پابندیوں کی اقسام اور ان کو کیسے ہٹایا جا سکتا ہے؟

امریکہ میں عائد پابندیوں کی دو اقسام ہوتی ہیں:

1. انتظامی اختیارات کے تحت عائد کردہ پابندیاں

یہ وہ پابندیاں ہیں جنہیں امریکی صدر اپنے ایگزیکٹو اختیارات (Executive Orders) کے ذریعے عائد کرتا ہے۔ ان میں مخصوص افراد یا اداروں کے اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں عائد کرنا، اور کچھ مالیاتی و تجارتی پابندیاں شامل ہوتی ہیں۔ صدر ان پابندیوں کو کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی ختم کر سکتا ہے یا ان میں ترمیم کر سکتا ہے۔

2. قانون سازی کے ذریعے عائد کردہ پابندیاں

یہ وہ پابندیاں ہیں جنہیں امریکی کانگریس نے قانون بنا کر نافذ کیا ہوتا ہے، جیسے قیصر قانون۔ ان پابندیوں کو ہٹانے کے لیے کانگریس کی باقاعدہ منظوری درکار ہوتی ہے، جس میں ووٹنگ اور قانون سازی کا مکمل عمل شامل ہوتا ہے۔


ٹرمپ کا اعلان اور اس کے ممکنہ اثرات

اگرچہ امریکی انتظامیہ نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ شام پر سے کن پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، لیکن ٹرمپ کے اعلان کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پابندیاں جو صرف انتظامی احکامات کے تحت عائد کی گئی تھیں، انھیں ختم یا نرم کیا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ:

  • بعض شامی کاروباری افراد کے اثاثے بحال کیے جا سکتے ہیں

  • امریکہ میں تعمیری و انسانی امدادی منصوبے بحال ہو سکتے ہیں

  • شامی تیل و گیس کی صنعتوں میں بیرونی سرمایہ کاری ممکن ہو سکتی ہے

  • تعمیر نو کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں

البتہ جب تک قیصر قانون جیسے سخت قوانین کانگریس کی منظوری سے واپس نہیں لیے جاتے، شام پر پابندیوں کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔


امید کی کرن یا علامتی اقدام؟

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کو اگرچہ دنیا بھر میں ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے، لیکن عملی طور پر شام کی مکمل بحالی اور عالمی معیشت میں واپسی کی راہ ابھی بھی طویل اور پیچیدہ ہے۔ جب تک قانون سازی کے ذریعے عائد پابندیوں کو ختم نہیں کیا جاتا، شام پر دباؤ برقرار رہے گا۔

یہ اعلان علامتی ہو یا عملی، لیکن شامی حکومت اور عوام کے لیے یہ ایک امید کی کرن ضرور ہے کہ ایک دن وہ بین الاقوامی تنہائی سے نکل کر ایک بار پھر دنیا کے ساتھ جُڑ سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button