بین الاقوامی خبریں

حکومت پاکستان کی غلطی سے 67 ہزار عازمین حج سے محرومی کا خطرہ، سعودی عرب سے معافی کی درخواست

پرائیویٹ حج کوٹہ کی منظوری اور رجسٹریشن میں تاخیر

اسلام آباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پاکستان کی جانب سے حج 2025 کی تیاریوں میں کی گئی سنگین غلطی کے نتیجے میں تقریباً 67 ہزار پاکستانی عازمین حج اس سال فریضۂ حج سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ وزارت مذہبی امور نے اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے سعودی عرب کو انگریزی اور عربی زبان میں ایک تفصیلی خط بھیجا ہے، جس میں نہ صرف معافی مانگی گئی ہے بلکہ متاثرہ عازمین کے لیے خصوصی رعایت کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیویٹ حج کوٹہ کی منظوری اور رجسٹریشن میں تاخیر ہوئی، اور کچھ سروس پرووائیڈرز کو واجب الادا فیسیں بھی ادا نہیں کی جا سکیں۔ نتیجتاً، ہزاروں عازمین کا حج رجسٹریشن مکمل نہ ہو سکا، جس سے ان کی حج پر روانگی مشکوک ہو گئی ہے۔

وزارت مذہبی امور نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ اس بار جو غلطی ہوئی ہے، وہ غیر ارادی تھی اور آئندہ ایسی کوتاہی نہیں دہرائی جائے گی۔ خط میں لکھا گیا ہے: "ہم مستقبل میں حج انتظامات میں اصول و ضوابط کی مکمل پاسداری کریں گے۔ مگر اس بار انسانی بنیادوں پر ان بزرگ حاجیوں پر رحم کھایا جائے۔”

خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیشتر متاثرین ضعیف العمر ہیں، اور ان میں سے کئی شاید دوبارہ حج پر نہ جا سکیں۔ وزارت نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ تمام 67 ہزار عازمین کی حج فیس پہلے ہی سعودی حکومت کو منتقل کر دی گئی ہے، لہٰذا ان کے لیے جگہ مختص کر دینا ممکن ہو تو بڑی مہربانی ہوگی۔

پاکستان نے سعودی عرب سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے: "اسلامی بھائی چارے اور انسانیت کے جذبے کے تحت اگر منیٰ میں تھوڑی سی بھی جگہ ہو، تو ہمیں عطا کی جائے تاکہ ہمارے بزرگ شہری اس سال حج کی سعادت حاصل کر سکیں۔”

ایک طرف پاکستان کو حالیہ دنوں میں ہندوستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں سفارتی اور عسکری دباؤ کا سامنا ہے، تو دوسری طرف حج جیسے مذہبی فریضے میں ایسی سنگین غلطی نے حکومت کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب اس جذباتی اپیل پر کیا ردعمل دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button