جنگ بندی کے بغیر امن ممکن نہیں، زیلنسکی کی یورپی رہنماؤں سے روس پر دباؤ ڈالنے کی اپیل
زیلنسکی کا یورپی لیڈران سے جنگ بندی کے لیے فوری اقدام کا مطالبہ
کیف/یوکرین :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) یوکرین کے صدر ولودمیر زیلنسکی نے یورپی یونین کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران زور دیا ہے کہ روس پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ مکمل اور بلاشرط جنگ بندی کے لیے تیار ہو جائے۔ زیلنسکی نے یورپی کونسل کے صدر اینٹونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین، اور نیدرلینڈ، ڈنمارک و سویڈن کے وزرائے اعظم کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی انصاف پسند امن کی طرف پہلا قدم ہے، اور اگر روس اس پر رضامند نہیں ہوتا تو اس کے خلاف سخت پابندیاں ضروری ہیں۔ زیلنسکی نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغامات میں استنبول میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بھی شیئر کیں اور یورپی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ روس کے خلاف سترہویں پابندیوں کے پیکیج پر کام کر رہے ہیں۔
ان ملاقاتوں کا مرکزی نکتہ یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا تھا، جس میں ایئر ڈیفنس سسٹم اور دفاعی پیداوار میں مقامی سرمایہ کاری شامل ہے۔ زیلنسکی نے نیدرلینڈ کے وزیر اعظم ڈک اسکوف سے ملاقات میں ان کی طرف سے تین گنا بڑھائی گئی دفاعی امداد کو سراہا اور کہا کہ یہ امداد یوکرینی شہریوں کی زندگیاں بچانے میں مددگار ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن سے گفتگو میں انہوں نے 26ویں فوجی امدادی پیکیج کی تیاری پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈنمارک یوکرین کا ایک قابل اعتماد اتحادی ہے۔ زیلنسکی نے دونوں رہنماؤں کے ساتھ یوکرین کی دفاعی صنعت میں براہ راست سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
زیلنسکی نے اپنے بیانات میں بار بار اس بات کو دہرایا کہ اگر روس جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو اس پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی صرف ایک حکمت عملی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت ہے جو یوکرین میں امن و انصاف کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ یورپی یونین کی رکنیت کے عمل کو تیز کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، اور زیلنسکی نے اسے یوکرین کے مستقبل کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی تعاون نہ صرف ہماری فوجی ضرورتوں کو پورا کر رہا ہے بلکہ ہمیں دیرپا امن کے قریب بھی لا رہا ہے۔



