
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بڑا فیصلہ: سمیلیٹر پر سائنسی ڈرائیونگ ٹسٹ لازمی!
ٹریک پر گاڑی چلانے سے قبل سمیلیٹر پر سائنسی طور پر مہارت کی جانچ ہوگی، محکمہ ٹرانسپورٹ کی تیاریاں
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا اب مزید آسان نہیں رہے گا، کیونکہ محکمہ ٹرانسپورٹ موجودہ نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے جا رہا ہے۔ مستقبل میں امیدواروں کو صرف میدان میں H اور 8 ٹریک مکمل کرنے کے بجائے، ایک جدید سمیلیٹر (Simulator) پر بھی ڈرائیونگ مہارت کا سائنسی انداز میں ٹیسٹ دینا ہوگا۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس تجویز کو اصولی طور پر منظوری دے دی ہے اور ریاست کے 18 آر ٹی او دفاتر میں اس نئے نظام کو نافذ کرنے کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ سسٹم میں درمیانی افراد کی مداخلت سے ڈرائیونگ لائسنس جاری ہو رہے ہیں، جو اکثر نااہل افراد کو سڑکوں پر لے آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ خطرناک حادثات کی صورت میں نکل رہا ہے۔ 2023 میں ریاست میں 22,093 حادثات ہوئے، جو 2024 میں بڑھ کر 25,934 تک پہنچ گئے۔ پچھلے دو سالوں میں مجموعی طور پر 28,682 اور 31,559 افراد ان حادثات کی نذر ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان میں بیشتر حادثات کی وجہ غیر معیاری ڈرائیونگ ہے۔
اسی پس منظر میں اب محکمہ ٹرانسپورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر امیدوار کو جدید سمیلیٹر پر بھی جانچنا لازمی ہوگا۔ اس سمیلیٹر میں اسٹیرنگ، کلچ، بریک، گیئرز اور سامنے اسکرین پر حقیقی سڑک جیسا منظر ہوگا۔ بارش، دھند اور ٹریفک جیسی رکاوٹیں بھی دکھائی جائیں گی تاکہ امیدوار کے ردعمل کا تجزیہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ امیدوار کے چہرے کے تاثرات اور دباؤ کے لمحات میں اس کی صلاحیت بھی نوٹ کی جائے گی۔
محکمہ کے 34 دفاتر میں سمیلیٹرز لگانے کی تجویز ہے۔ اس منصوبہ کیلئے خانگی کمپنیوں کو دعوت دی جائے گی اور سب سے کم فیس تجویز کرنے والی کمپنی کا انتخاب کیا جائے گا۔ حاصل ہونے والی آمدنی کا 50 فیصد محکمہ کو دیا جائے گا اور اس کیلئے قواعد و ضوابط کی تیاری بھی جاری ہے۔
یہ اقدام سڑکوں پر محفوظ ڈرائیونگ کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔



