پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار جیوتی ملہوترا کے والد کے اہم انکشافات
جیوتی ملہوترا کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل ,پانچ روزہ پولیس ریمانڈ
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی پولیس کے زیرِ حراست جیوتی ملہوترا، جس پر پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام ہے، سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے اس کیس میں اہم شواہد اور رابطے تلاش کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیوتی پاکستان سے منسلک افراد کے رابطے میں تھی۔
جیوتی کے والد نے ایک نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کئی حیران کن انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کی حالت خستہ ہے اور ان کا گزر بسر ان کے بھائی کی پنشن سے ہوتا ہے۔ "جیوتی ہمیشہ کہتی تھی کہ دہلی جا رہی ہوں، لیکن ہمیں کبھی علم نہیں ہوا کہ وہ کیا کر رہی ہے”
انہوں نے مزید بتایا: "وہ رات دو بجے پولیس والوں کے ساتھ آئی، صرف کپڑے لے کر گئی اور کہا دہلی جا رہی ہوں، اس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہی تھی، نہ ہی ہمیں اس کے کسی دوست یا رابطے کا پتہ ہے۔”
ان کے مطابق، ابھی وکیل کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی اور نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ آئندہ کیا ہوگا۔
دوسری جانب، سول لائنز پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق، جیوتی نے پاکستانی ہائی کمیشن میں احسان الرحیم عرف دانش سے متعدد بار ملاقات کی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستان بھی دو مرتبہ گئی اور وہاں علی احوان نامی شخص کے ساتھ رابطے میں رہی، جس نے اس کے قیام کا بندوبست کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، جیوتی کا رابطہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے منسلک افراد سے بھی رہا۔پولیس کی جانب سے جیوتی پر عائد الزامات کی تفتیش جاری ہے اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
جیوتی ملہوترا کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل
مشہور یوٹیوبر جیوتی ملہوترا کے خلاف جاسوسی کے الزامات میں پیش رفت کے بعد اس کا انسٹاگرام اکاؤنٹ "travel with jo youtube channel” معطل کر دیا گیا ہے۔ صارفین نے جب اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کی تو انہیں علم ہوا کہ انسٹاگرام نے یہ پروفائل ہٹا دیا ہے، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جیوتی ملہوترا کو پانچ روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس سے پاکستان کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں تحقیقات کی جا سکیں۔ پولیس جیوتی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اس کی پرتعیش طرزِ زندگی کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکام کے مطابق جیوتی کی آمدنی سے زیادہ اخراجات نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
تنازعہ کا آغاز:
جیوتی اس وقت تنقید کی زد میں آئی جب اس نے پہلگام میں دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد ایک لائیو ویڈیو بنائی جس میں وہ ہنستی ہوئی نظر آئی۔ سوشل میڈیا صارفین نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور بے حس قرار دیا، اور پھر اس کے پاکستان سے روابط کی خبریں منظرِ عام پر آئیں۔
پاکستان کا دورہ اور مشتبہ ملاقاتیں:
جیوتی ملہوترا نے پاکستان کا سفر کیا اور وہاں 5000 سال پرانے ہندو مندر کی ویڈیو اپلوڈ کی جو کافی وائرل ہوئی۔ تاہم انٹیلی جنس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس دورے کے دوران وہ محض ویڈیوز کی شوٹنگ تک محدود نہیں رہیں۔ ان کے مطابق جیوتی پاکستانی ہائی کمیشن کے افسر احسان الرحیم عرف دانش سے مسلسل رابطے میں تھی، جسے 13 مئی 2025 کو "ناپسندیدہ شخص” قرار دے کر بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔
واٹس ایپ، ٹیلی گرام پر روابط:
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جیوتی واپسی کے بعد بھی دانش اور دیگر مشتبہ افراد سے واٹس ایپ، اسنیپ چیٹ اور ٹیلی گرام کے ذریعے جڑی رہی۔ جیوتی نے پولیس کو بتایا کہ وہ پاکستان میں رانا شہباز اور شاکر نامی افراد سے ملی تھی، جب کہ شاکر کا نمبر اس نے "جٹ رندھاوا” کے نام سے محفوظ کر رکھا تھا تاکہ کوئی شک نہ ہو۔
حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا جیوتی ملہوترا نے جان بوجھ کر حساس معلومات ملک دشمن عناصر کو فراہم کیں یا وہ کسی سازش کا شکار بنی۔ اس کیس میں سوشل میڈیا کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور مزید اکاؤنٹس کی جانچ کی جا رہی ہے۔



