بین الاقوامی خبریںسرورق

برطانوی کوہ پیما نے 19ویں بار ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرکے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

کینٹن کول نے پہلی بار 2004 میں ماؤنٹ ایوریسٹ سر کیا تھا،

کھٹمنڈو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) برطانوی کوہ پیما کینٹن کول نے اتوار کے روز دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ (8,849 میٹر) کو انیسویں بار سر کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ کسی بھی نان-شرپا (non-Sherpa) کوہ پیما کی جانب سے ایوریسٹ پر سب سے زیادہ بار چڑھنے کا پہلا اور منفرد اعزاز ہے۔

کینٹن کول کی عمر 51 سال ہے اور وہ جنوب مغربی انگلینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بار بھی ہمالین گائیڈز نیپال کے تعاون سے یہ مہم مکمل کی۔ ادارے کے نمائندے اشوری پاؤڈیل کے مطابق کول اور ان کے ہمراہ موجود دیگر کوہ پیما بحفاظت چوٹی سے نیچے واپس آ رہے ہیں۔

کینٹن کول نے پہلی بار 2004 میں ماؤنٹ ایوریسٹ سر کیا تھا، اور تب سے اب تک وہ تقریباً ہر سال اس مہم میں شریک رہے ہیں۔

چڑھائی سے محروم سیزن

کول کی اس مستقل مزاجی کے باوجود، کچھ سال ایسے بھی آئے جب وہ ایوریسٹ سر نہ کر سکے۔

  • 2014 میں برفانی تودے کی تباہی کے باعث 16 شرپا گائیڈ جاں بحق ہو گئے، جس کی وجہ سے چڑھائی روک دی گئی۔

  • 2015 میں ایک زلزلے سے برفانی تودہ گرا، جس میں 19 جانیں ضائع ہوئیں اور مہم ایک بار پھر منسوخ ہو گئی۔

  • 2020 میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے سبب پورا سیزن ہی منسوخ کر دیا گیا۔

ایوریسٹ سیزن کا عروج

ہر سال بہار کے موسم میں دنیا بھر سے سینکڑوں کوہ پیما نیپال کا رخ کرتے ہیں تاکہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کر سکیں۔ یہ سیزن مئی کے آخر میں ختم ہو جاتا ہے، جب مون سون کی بارشیں چڑھائی کو نہایت خطرناک بنا دیتی ہیں۔

اب تک اس سیزن میں کئی کوہ پیما کامیاب ہو چکے ہیں، جبکہ مزید کئی ٹیمیں ابھی کوشش میں ہیں۔

شرپا گائیڈز کی برتری برقرار

اگرچہ کینٹن کول نے نان-شرپا کوہ پیماؤں میں سب سے زیادہ بار ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، تاہم نیپالی شرپا گائیڈز اب بھی مجموعی ریکارڈ میں سب سے آگے ہیں۔

مشہور شرپا گائیڈ کامی ریتا نے اب تک 30 بار ماؤنٹ ایوریسٹ سر کیا ہے، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ وہ اس وقت بھی پہاڑ پر موجود ہیں اور ان کی جانب سے ایک اور کامیاب چڑھائی کی کوشش آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔

یہ ریکارڈ نہ صرف کول کی ذاتی لگن اور مہارت کا مظہر ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ انسانی حوصلہ، عزم اور استقامت بلند ترین چوٹیاں بھی سر کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button