سرورققومی خبریں

شادی کے بہانے جسمانی تعلقات قائم کرنے پر کیا قانونی سزا ہے؟ قوانین جانئے

شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے جسمانی تعلقات قائم کرنا جرم

نئی دہلی، 21 مئی(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آج کل ایسے کئی واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں لڑکے لڑکیوں کو شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے ان سے جسمانی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف اخلاقی اعتبار سے غلط ہے بلکہ قانونی طور پر بھی جرم ہے۔ شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے جسمانی تعلقات قائم کرنا انڈین قانون کے تحت سخت جرم قرار پایا ہے اور اس پر سخت سزا کا انتظام موجود ہے۔

شادی کے بہانے جسمانی تعلقات قائم کرنے پر کیا قانونی سزا ہے؟

انڈین جوڈیشل کوڈ کی دفعہ 69 کے تحت، اگر کوئی شخص شادی کے بہانے کسی عورت سے جسمانی تعلقات رکھتا ہے، تو اسے قانونی طور پر سزا دی جا سکتی ہے۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجرم کو 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے یا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ بعض معاملات میں قید اور جرمانہ دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

دفعہ 69 کے تحت شامل دیگر جرائم

تعزیرات ہند 2023 کی دفعہ 69 میں نہ صرف شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے جسمانی تعلقات قائم کرنا جرم ہے، بلکہ اس کے علاوہ درج ذیل عمل بھی اسی دفعہ کے تحت جرم شمار کیے جاتے ہیں:

  • اپنی شناخت چھپا کر کسی عورت سے جسمانی تعلقات قائم کرنا

  • کسی عورت کو نوکری، ترقی یا دیگر فوائد کا جھوٹا وعدہ دے کر جسمانی تعلقات قائم کرنا

ایسے تمام کیسز کو سختی سے جرم کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور متعلقہ مجرمین کو اسی دفعہ کے تحت سزا دی جاتی ہے۔

عدالت کا کردار اور جرم کے ثبوت

یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی پر سزا صرف اس وقت دی جاتی ہے جب عدالت میں جرم ثابت ہو جائے۔ قانونی کاروائی کے دوران متاثرہ فریق کو مناسب طریقے سے عدالت میں اپنا کیس پیش کرنا ہوتا ہے اور مجرم کو عدالت کے سامنے قصوروار ثابت کرنا لازمی ہوتا ہے۔

شادی کے بہانے جسمانی تعلقات قائم کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ قانون کی نظر میں سنگین جرم بھی ہے۔ دفعہ 69 کے تحت ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو قید یا جرمانہ کی سخت سزائیں دی جاتی ہیں تاکہ اس طرح کے معاشرتی جرائم کو روکا جا سکے اور خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button