بین الاقوامی خبریں

قیدیوں سے دور خفیہ اجلاس محمد السنوار کی موت کا سبب بن گیا

محمد السنوار اور حماس کی بیرونی قیادت کے درمیان شدید اختلافات تھے

غزہ، ۲۲؍مئی :(اردو دنیا.اِن / ایجنسیز)اسرائیلی ٹی وی "چینل 14” نے انکشاف کیا ہے کہ حماس کے ممتاز عسکری رہنما محمد السنوار اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق، السنوار اپنے بڑے بھائی اور سابق حماس سربراہ یحیی السنوار کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے اہم ترین جنگی کمانڈروں میں شامل ہو گئے تھے۔

بتایا گیا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب محمد السنوار حماس کے دیگر 10 اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ غزہ کے خان یونس میں واقع یورپی اسپتال کے نیچے ایک سرنگ میں خفیہ اجلاس کر رہے تھے۔ "معاریف” اخبار کے مطابق، اجلاس میں کوئی یرغمالی موجود نہ ہونے کو اسرائیل نے ایک "سیکیورٹی خلل” کے طور پر دیکھا، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حملے کی منظوری دی گئی۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے اس کارروائی کی منظوری دی جس میں سرنگ کے داخلی راستوں کو درجنوں بموں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کو غزہ میں جاری جنگ کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہ حماس کے عسکری ونگ کے زوال کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

بیرونی قیادت سے اختلافات:

"معاریف” کے مطابق، محمد السنوار اور حماس کی بیرونی قیادت کے درمیان شدید اختلافات تھے، جو ان کی شناخت اور ہدف بننے کی ایک بڑی وجہ بنے۔ خاص طور پر ایک امریکی نژاد اسرائیلی قیدی عیدان الیگزینڈر کی رہائی کے فیصلے پر السنوار سخت ناراض تھے اور اسے اپنی قیادت کے خلاف اقدام قرار دیا۔

اسی ناراضی میں انہوں نے ایک بڑا اجلاس بلایا جہاں حفاظتی انتظامات غیرمعمولی طور پر کمزور تھے، جسے اسرائیل نے سنہری موقع سمجھا۔ رپورٹس کے مطابق، السنوار قیدیوں کی موجودگی کے بغیر اجلاس میں شریک ہوئے، حالانکہ حماس رہنما عام طور پر انسانی ڈھال کے طور پر یرغمالیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع کا مؤقف:

اسرائیلی ذرائع کے مطابق، انہیں محمد السنوار اور دیگر رہنماؤں کی لاشیں ملنے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے، تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ "ہم حملے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال حتمی اعلان سے گریز کیا جا رہا ہے۔”

یاد رہے کہ محمد السنوار 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ ان کی ہلاکت کو اسرائیل کے لیے ایک بڑی کامیابی اور حماس کے لیے شدید دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button