بین الاقوامی خبریںسرورق

عیدان الیگزینڈر کی حماس قید سے رہائی، سرنگوں میں گرمی، بھوک اور خطرناک حالات کا انکشاف

عیدان الیگزینڈر نے حماس کی قید میں گزارے گئے اذیت ناک لمحات بیان کیے

تل ابیب، ۲۲؍مئی (اردو دنیا.اِن/ایجنسیز):تل ابیب سے تعلق رکھنے والے امریکی نژاد اسرائیلی فوجی عیدان الیگزینڈر جنہیں حال ہی میں حماس کی قید سے رہا کیا گیا ہے، نے اپنی اسیری کے دوران پیش آنے والے کٹھن حالات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

عیدان نے انکشاف کیا کہ اسے غزہ کی زیر زمین سرنگوں میں قید رکھا گیا جہاں شدید گرمی کے باعث کھانے کے ٹین کے ڈبے پھٹ جاتے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ قید کے دوران حماس کی اعلی قیادت بشمول سیاسی دفتر کے سربراہ یحیی السنوار بھی اسی سرنگ میں موجود تھے، جنہیں اسرائیلی فوج نے رفح میں ایک کارروائی کے دوران قتل کر دیا۔

اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے عیدان نے کہا:

"اسیری کے دن انتہائی کٹھن تھے۔ ہمیں بار بار مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا۔ کبھی اپارٹمنٹس، کبھی مساجد اور کبھی سڑکوں پر سونا پڑتا۔ ایک موقع پر ہم ایک گلی میں زمین پر سو گئے کیونکہ ہمیں اگلی جگہ منتقل ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔”

عیدان کے مطابق، خوراک اور پانی کی شدید قلت نے انہیں سمندر کا کھارا پانی پینے اور گندی خشک روٹی کھانے پر مجبور کر دیا۔ اس نے بتایا کہ ایک بار اسے ایک گنجان بازار کے بیچ سے ایک گدھا گاڑی میں مکمل نقاب پوشی کے ساتھ منتقل کیا گیا، جبکہ ساتھ ایک حماس کا رکن عورت کے بھیس میں موجود تھا تاکہ شناخت نہ ہو۔

عیدان ان چند اسرائیلی فوجیوں میں شامل تھا جنہیں طویل مذاکرات کے بعد رہا کرایا گیا۔ وہ ان آخری امریکی شہریوں میں شامل تھا جو حماس کی قید میں زندہ بچے تھے۔ رہائی سے دو ہفتے قبل ایک اسرائیلی فضائی حملے میں وہ بمشکل موت سے بچا جب وہ جس سرنگ میں تھا، اسرائیل نے اس پر بمباری کر دی۔

یاد رہے کہ عیدان 7 اکتوبر کی صبح اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر گشت پر مامور تھا جب حماس نے "طوفان الاقصی” نامی کارروائی شروع کی۔ اسی دوران اسے اور اس کے متعدد ساتھیوں کو حماس نے قید کر لیا۔ اس حملے میں عیدان کے یونٹ گولانی بریگیڈ کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button