بین ریاستی خبریں

یورپی ممالک کا شدید ردعمل، جنین میں سفارتی وفد پر اسرائیلی فائرنگ پر سفیروں کی طلبی

"اسرائیلی فوج کی جانب سے ہمارے سفارتکاروں پر فائرنگ ناقابل قبول ہے۔

روم/پیرس، 22 مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جنین میں مہاجر کیمپ کے دورے پر آئے یورپی اور عرب سفارتی وفد پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ نے بین الاقوامی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اٹلی، فرانس، اسپین، بیلجیم اور پرتگال سمیت متعدد یورپی ممالک نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی سفیروں کو طلب کر لیا ہے۔

یہ واقعہ بدھ کے روز اس وقت پیش آیا جب سفارتکار جنین کے مہاجر کیمپ میں فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کا جائزہ لینے پہنچے تھے۔ اسرائیلی فوج نے ان پر فائرنگ کی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اٹلی کا شدید احتجاج

اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے واقعے کو "ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اسرائیلی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ "سفارتکاروں کو خطرے میں ڈالنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اطالوی نائب قونصل السیندرو توتینو وفد میں شامل تھے، جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔

فرانس کی مذمت

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے "ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ "اسرائیلی فوج کی جانب سے ہمارے سفارتکاروں پر فائرنگ ناقابل قبول ہے۔ ہم اسرائیلی سفیر کو وضاحت کے لیے طلب کریں گے۔”

اسپین کا ردعمل

اسپین نے فوری طور پر قابض اسرائیل کے ناظم الامور کو طلب کیا اور واقعے کو "سفارتی خلاف ورزی” اور "بین الاقوامی ضوابط کی کھلی پامالی” قرار دیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ وفد میں شامل ہسپانوی سفارتکار محفوظ ہیں۔

بیلجیم اور پرتگال کا احتجاج

بیلجیم کے وزیر خارجہ مکسیم بریفو نے کہا کہ "بیس سے زائد سفارتکاروں پر حملہ کیا گیا، جن میں ایک بیلجیئم کا سفارتکار بھی شامل تھا۔” انہوں نے کہا کہ "کاررواں کی گاڑیاں واضح شناخت رکھتی تھیں، اس کے باوجود ان پر فائرنگ انتہائی تشویشناک ہے۔”
پرتگال کے وزیر خارجہ نے بھی اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا اور کہا کہ "ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ ردعمل کی تیاری کر رہے ہیں۔”

یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کا بیان

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کاجا کالاس نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اسرائیل عالمی معاہدوں کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کی حفاظت کا پابند ہے۔ اس فائرنگ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔”

فلسطینی وزارت خارجہ کا ردعمل

فلسطینی وزارت خارجہ نے اسے "ایک گھناونا جرم” قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر غیر ملکی سفارتکاروں پر براہ راست فائرنگ کی۔
وفد کے رہنما احمد الدیک نے بتایا کہ "انہوں نے جنونی انداز میں فائرنگ کی۔ ہم مہاجر کیمپ میں جاری مظالم دکھانا چاہتے تھے، مگر ہمیں خاموش کرانے کے لیے گولیاں برسائی گئیں۔”

اسرائیلی فوج نے  جنین اور دیگر علاقوں میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں، جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، صرف جنین سے 16,000 افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ قابض اسرائیل اب نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ عالمی سفارتی اقدار کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ جب ظلم سفارتخانوں کی دیواروں تک آن پہنچے تو انسانیت کے جنازے میں شرکت کرنے کا وقت قریب ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button