بنگلہ دیش بحران کا شکار، محمد یونس کا انتباہ: ’ملک جنگ جیسے حالات میں داخل ہو چکا ہے
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت سوز جرائم پر پہلا مقدمہ شروع
ڈھاکہ، ۲۶؍مئی (اردو دنیا / ایجنسیز) بنگلہ دیش اس وقت ایک سنگین سیاسی اور انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ ملک کی عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس کر رہے ہیں، کو شدید عوامی مخالفت کا سامنا ہے۔ انتظامی محکموں سے لے کر تجارتی طبقے تک، ہر طرف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، اور دارالحکومت ڈھاکہ میں بے چینی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔
تجارتی برادری کے نمایاں رہنما شوکت عزیز نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’تاجروں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو 1971 کے مکتی سنگرام میں دانشوروں کے ساتھ ہوا تھا۔‘‘ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر موجودہ حالات جاری رہے تو ملک کو قحط جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر، بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے پریس سیکریٹری شفیع الاسلام نے محمد یونس کے اہم بیان کو میڈیا میں پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا، ’’ملک کے اندر اور باہر دونوں جگہ جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ہم آگے بڑھنے سے قاصر ہو چکے ہیں، سب کچھ تباہ ہو چکا ہے اور ہم غلامی کی طرف واپس دھکیلے جا رہے ہیں۔‘‘
ان شدید حالات کے تناظر میں، پروفیسر محمد یونس نے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں دو سیشن منعقد کیے، جن میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے 20 رہنماؤں سے ملاقات کی گئی تاکہ ایک وسیع تر اتفاق رائے قائم کیا جا سکے۔
مزید برآں، اتوار کو سرکاری ملازمین نے مسلسل دوسرے دن بنگلہ دیش سیکریٹریٹ کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج حکومت کے مجوزہ "سرکاری خدمات (ترمیم) آرڈیننس 2025” کے خلاف تھا، جسے مظاہرین ایک سیاہ قانون قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون سے سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی اور برخاستگی آسان ہو گئی ہے، جو کارکنان کے حقوق کے منافی ہے۔
صورتحال مزید اس وقت نازک ہو گئی جب محصولات محکمے کے ملازمین نے بھی دو دن سے کام بند کر رکھا ہے۔ این بی آر (نیشنل بورڈ آف ریونیو) کے افسران نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے، پیر سے تمام درآمد و برآمد سرگرمیوں کو غیر معینہ مدت تک روک دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں جاری یہ بحران حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور آنے والے دنوں میں حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیشی عدالت میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف قتل و تشدد کا کیس شروع

ڈھاکہ، ۲۶؍ مئی (اردو دنیا۔اِن / ایجنسیز) بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور جلا وطن رہنما شیخ حسینہ واجد کے خلاف پہلی بار باضابطہ عدالتی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت میں اتوار کے روز اس مقدمے کی ابتدائی سماعت ہوئی جس میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت 8 پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہو چکا ہے۔ مقدمہ ان 6 مظاہرین کی ہلاکت سے متعلق ہے جو 5 اگست 2019 کو ڈھاکہ میں ایک عوامی احتجاج کے دوران قتل کیے گئے تھے۔ عدالت میں 8 میں سے 4 پولیس اہلکار پیش ہوئے، جبکہ دیگر کی عدم موجودگی میں سماعت جاری رکھی گئی۔
پراسیکیوٹر کے مطابق ان افراد پر مختلف نوعیت کے الزامات ہیں، جن میں مظاہرین پر تشدد کے احکامات جاری کرنا، ان احکامات پر عمل درآمد کروانا، اور براہ راست کارروائیوں میں حصہ لینا شامل ہے۔ تاج الاسلام نے کہا کہ مقدمہ میں بین الاقوامی قوانین کے تحت شواہد پیش کیے جائیں گے جن میں ویڈیو فوٹیجز اور آڈیو ریکارڈنگز شامل ہیں۔ ان شواہد کے مطابق حسینہ واجد نے خود مظاہرین کو کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال کا حکم دیا تھا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے دوران، جب حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا، بنگلہ دیش میں تقریباً 1400 مظاہرین مارے گئے تھے۔ ان ہلاکتوں میں ڈھاکہ کے سابق پولیس کمشنر حبیب الرحمن کا نام بھی شامل ہے، جو اس مقدمہ میں مفرور ہیں۔
واضح ہو کہ 5 اگست 2024 کو عوامی احتجاج اور حکومت مخالف تحریک کے بعد حسینہ واجد بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کی حکومت پر نوجوان مظاہرین پر بے رحمانہ تشدد، قتل، اور جبری گمشدگیوں کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
حسینہ واجد کو ماضی میں بھی اپنے مخالفین کے خلاف سخت عدالتی کارروائیوں، طویل قید اور سزائے موت کے فیصلوں کے حوالے سے عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔
🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ



