’کمل کا نشان، عوام پریشان‘ –11 سال بعد بھی ‘اچھے دن’ خواب کیوں بن گئے؟کھڑگے کا مودی حکومت پر طنز
نوجوان بے روزگار، کسان لاچار، عورت غیر محفوظ – کھڑگے نے مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا
کھڑگے کا طنز: ’کمل کھلا ضرور، مگر خوشبو عوام کو نہ ملی‘
نئی دہلی، ۲۶؍ مئی (اردو دنیا/ایجنسیز):کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت کی گیارہ سالہ کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام سے کیے گئے بڑے بڑے وعدوں کو کھوکھلے دعووں میں بدل دیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ملک کے حالات بدترین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ (X) ہینڈل پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور عوام کو یاد دلایا کہ 26 مئی 2014 کو اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے کون کون سے وعدے کیے تھے اور ان کا کیا انجام ہوا۔
کھڑگے نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ "اچھے دن کی بات اب ایک خوفناک خواب جیسی محسوس ہوتی ہے۔ 11 سالوں میں مودی حکومت نے عوام کی امیدوں کو مایوسی میں بدل دیا ہے۔ آج ملک کا ہر طبقہ پریشان حال ہے۔” انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوجوان، کسان، خواتین اور کمزور طبقات سبھی حکومت کی ناکامیوں سے متاثر ہیں۔
نوجوانوں سے متعلق وعدوں کی یاد دلاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے سالانہ دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کروڑوں نوکریاں ختم ہو چکی ہیں۔ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسی طرح کسانوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ان کی آمدنی دوگنی کی جائے گی، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کسان آج بھی اپنی زندگی اور زمین بچانے کے لیے سڑکوں پر جدوجہد کر رہے ہیں، اور احتجاج کے دوران انھیں لاٹھیاں کھانی پڑیں۔
خواتین کے تعلق سے بھی کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل میں شرطیں شامل کر کے اس کے فائدے کو محدود کر دیا گیا ہے۔ خواتین کی سیکورٹی کا حال یہ ہے کہ جرائم کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، اور حکومت صرف دعوے کرتی دکھائی دیتی ہے۔
ملک کے پسماندہ اور کمزور طبقات جیسے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتوں کی حالت پر بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ان پر ظلم و ستم میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی نمائندگی کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کے نام پر حکومت نے صرف نعرے دیے، عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آئے۔
معاشی محاذ پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ آج ملک مہنگائی، بے روزگاری اور صارفیت کی زوال پذیری سے دوچار ہے۔ ‘میک اِن انڈیا’ جیسی اسکیمیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور معاشرتی عدم مساوات بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر طرف مایوسی اور بے چینی کا ماحول ہے۔
خارجہ پالیسی کے معاملے میں بھی کھڑگے نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے 2014 سے قبل بھارت کو ’وشو گرو‘ بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ پڑوسی ملکوں سمیت دنیا کے کئی ممالک سے بھارت کے تعلقات کمزور ہو چکے ہیں۔ سفارتی سطح پر بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے جمہوری اداروں پر حکومتی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ای ڈی، سی بی آئی جیسے اداروں کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اداروں کی خودمختاری کو ختم کر دیا گیا ہے، اور آر ایس ایس کے اثر سے جمہوریت کے تمام ستون کمزور پڑ گئے ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ آج جمہوریت کو شدید خطرہ لاحق ہے اور آئینی ادارے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
اپنی پوسٹ کے آخر میں کھڑگے نے ایک جملے میں پورے 11 سالہ دور کا خلاصہ کرتے ہوئے لکھا:
"140 کروڑ عوام کا ہر طبقہ پریشان، 11 سالوں میں ایسا رہا کمل کا نشان۔”
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ملک میں لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے میں ہیں اور اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ کھڑگے کا یہ بیان نہ صرف حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ عوام کو ایک بار پھر وعدوں اور حقیقت کے درمیان فرق یاد دلانے کی کوشش بھی ہے۔



