ہارورڈ اسکینڈل: سابق ڈائریکٹر نے انسانی باقیات بیچنے کا جرم قبول کر لیا
انسانی اعضا چوری اور فروخت کا اعتراف
کیمبریج، ۲۶؍ مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہارورڈ یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں مردہ خانے کے سابق ڈائریکٹر سیڈرک لاج نے حالیہ دنوں امریکی عدالت میں انسانی اعضا کی چوری اور فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
پنسلوانیا کے وسطی ضلع کے امریکی اٹارنی کے دفتر سے جاری ایک پریس بیان کے مطابق، ۵۷ سالہ سیڈرک لاج، جو نیو ہیمپشائر کے شہر جوفسٹان کے رہائشی ہیں، نے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے چیف جج میتھیو ڈبلیو برین کے سامنے انسانی باقیات کو ریاستوں کے درمیان غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کا اعتراف کیا۔
وفاقی قانون کے تحت ان پر زیادہ سے زیادہ ۱۰ سال قید اور بھاری جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔
استغاثہ کے مطابق سیڈرک لاج نے ۲۰۱۸ء سے مارچ ۲۰۲۰ء تک ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مردہ خانے سے انسانی اعضا چوری کیے جنہیں تحقیق اور تدریسی مقاصد کے لیے عطیہ کیا گیا تھا۔ ان اعضا میں دماغ، جلد، ہاتھ، چہرہ، سر اور دیگر باقیات شامل تھیں۔ یہ اعضا "اناٹومیکل گفٹ ایگریمنٹ” کے تحت عطیہ دہندگان اور ہارورڈ یونیورسٹی کے درمیان ایک معاہدے کے تحت دیے گئے تھے اور ان کا استعمال سائنسی تحقیق تک محدود ہونا چاہیے تھا۔
تاہم، سیڈرک لاج نے ان باقیات کو نہ صرف اپنے گھر منتقل کیا بلکہ انہیں دیگر افراد کو فروخت بھی کیا، وہ بھی بغیر اجازت یا اطلاع کے۔
یہ مقدمہ امریکہ بھر میں میڈیکل اخلاقیات اور عطیہ دہندگان کے حقوق پر اہم سوالات کھڑا کر رہا ہے۔ اب عدالت سیڈرک لاج کو سنائی جانے والی سزا کے حوالے سے آئندہ تاریخ پر فیصلہ دے گی۔



