بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

ہریانہ پنچکولہ:اجتماعی خودکشی، ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی نعشیں کار میں برآمد

ہریانہ کے پنچکولہ میں اجتماعی خودکشی کا دل دہلا دینے والا واقعہ

کار میں ایک ہی خاندان کی سات نعشیں برآمد، زہر کھا کر زندگی کا خاتمہ کیا

پنچکولہ:27/مئی (نمائندہ خصوصی) – ہریانہ کے ضلع پنچکولہ کے سیکٹر 27 میں ایک اندوہناک واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا، جب ایک کار سے ایک ہی خاندان کے سات افراد کی نعشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق، ان سب نے زہر کھا کر اجتماعی خودکشی کی۔

سڑک کنارے کئی دنوں سے کھڑی ایک کار سے اچانک چیخ و پکار کی آوازیں آئیں، جس پر قریبی رہائشی فوراً موقع پر پہنچے۔ دروازہ بند ہونے کے باعث وہ اندر نہ جھانک سکے اور فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دروازہ توڑا تو اندر سات افراد کی نعشیں موجود تھیں۔

متوفی افراد کی شناخت دہرادون کے رہائشی پراوین متل (عمر 42 سال) اور ان کے خاندان کے دیگر چھ افراد کے طور پر ہوئی ہے، جن میں ان کے والدین، اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ تمام افراد نے کار میں زہر کھا کر خودکشی کی۔

پولیس کے مطابق، پراوین متل اپنے خاندان کے ہمراہ باگیشور دھام میں منعقد ہونے والے ہنومان کتھا پروگرام میں شرکت کے لیے پنچکولہ آئے تھے۔ پروگرام کے بعد انہوں نے یہ افسوسناک قدم اٹھایا۔

مقامی شخص ہریش رانا کے مطابق، واقعے کی رات تقریباً 10 بجے ان کے بھائی نے گاڑی دیکھی جو کافی وقت سے کھڑی تھی۔ جب قریب جا کر دیکھا تو اندر ایک شخص زندہ تھا جس نے کہا:
"ہم سب آرام کر رہے ہیں…”

شک کی بنا پر دوبارہ چیک کیا تو دیکھا کہ سب نے الٹیاں کی ہوئی تھیں اور مر چکے تھے۔ چند منٹ بعد وہ واحد زندہ شخص بھی مر گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے بتایا کہ خاندان قرض میں ڈوبا ہوا ہے، رشتہ دار کروڑ پتی ہونے کے باوجود مدد نہیں کر رہے تھے۔

پراوین متل کے کزن سندیپ اگروال کے مطابق، خاندان گزشتہ کئی برسوں سے شدید قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ پراوین، جو کہ کبھی ایک اسکریپ فیکٹری کے مالک تھے، کاروباری نقصان کے بعد 15 تا 20 کروڑ روپے کے قرض میں پھنس گئے تھے۔ ان کی جائیداد، گاڑیاں اور فیکٹری سب بینک نے ضبط کر لی تھیں۔

پولیس کو کار سے ایک خودکشی نوٹ ملا ہے جس میں پراوین متل نے اس المیہ کی مکمل وضاحت دی ہے اور آخری رسومات کی ذمہ داری اپنے کزن سندیپ اگروال کو سونپی ہے۔

دہرادون کے ہمسایوں نے پراوین کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک سادہ طبعیت کے انسان تھے۔ وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ راگھو وہار کالونی میں کرائے پر رہتے تھے۔ بچے بلومنگ برڈ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے ایک این جی او بھی چلایا اور سسر کے لیے دکان کھولی تھی۔

جس کار سے نعشیں ملی ہیں، وہ دہرادون کے رہائشی گمبھیر سنگھ نیگی کے نام پر رجسٹرڈ ہے، نیگی نے پولیس کو بتایا کہ پروین کا بینک ریکارڈ خراب ہونے کی وجہ سے انکے کے نام پر گاڑی رجسٹرڈ کرائی گئی تھی تاکہ ٹیکسی سروس چلانے میں آسانی ہو۔ پروین متل نے  چندی گڑھ میں ٹیکسی چلانا شروع کیا، مگر آمدنی ناکافی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button