تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: ریونیو ریکارڈ سے زمین کے مالکانہ حقوق ثابت نہیں ہوتے

ریونیو ریکارڈ میں نام درج ہونا کسی شخص کو زمین پر قانونی حق یا مالکانہ ٹائٹل فراہم نہیں کرتا۔

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ صرف ریونیو ریکارڈ میں نام درج ہونا کسی شخص کو زمین پر قانونی حق یا مالکانہ ٹائٹل فراہم نہیں کرتا۔ عدالت نے کہا کہ ریونیو ریکارڈز، جیسے کہ پٹہ دار پاس بک یا پہانی، صرف زمین کی درجہ بندی، فصل کی نوعیت اور ٹیکس (محصول) کی معلومات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ مالکانہ حق کے لیے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ ریونیو ریکارڈ میں اندراج کو کبھی بھی "ریکارڈ آف رائٹس” (Record of Rights) نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس سے نہ تو کسی کو نیا حق حاصل ہوتا ہے، نہ ہی کسی کے موجودہ حق کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ زمین پر ملکیت کا فیصلہ صرف متعلقہ سول کورٹ میں کیا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ ضلع پیداپلی کے اوڈیل گاؤں میں واقع شری آنجنیہ سوامی مندر کی 14.05 ایکڑ اراضی سے متعلق ایک مقدمے میں آیا۔ 2018 میں اس زمین کے لیے پٹہ دار پاس بکس جاری کیے گئے تھے، لیکن بعد میں ان ناموں کو ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا۔ مندر کے پجاری آروتلا نرسمہا چاری نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔

جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی کی سنگل بینچ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے مذہبی اداروں کی جائیداد سے متعلق تنازعات کو اینڈومنٹ ٹریبونل میں حل کرنا چاہیے، نہ کہ براہ راست ہائی کورٹ میں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ ہدایت دی کہ چونکہ معاملہ مذہبی و اوقافی نوعیت کا ہے، لہٰذا یہ تنازعہ انڈومنٹ ٹریبیونل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مندر کی زمینوں یا دیگر اوقافی اداروں سے متعلق مقدمات کو براہ راست انڈومنٹ ٹریبیونل کے ذریعہ ہی نمٹایا جانا چاہیے تاکہ قانونی پیچیدگیاں اور تاخیر کم کی جا سکے۔

تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے درج ذیل نکات واضح ہوتے ہیں:

  • ریونیو ریکارڈ میں نام کا اندراج، زمین کا حقیقی مالک ہونے کا ثبوت نہیں۔

  • ریونیو حکام صرف ٹیکس وصولی اور فصلوں کی معلومات جمع کرنے کے مجاز ہیں۔

  • زمین کے اصل مالکانہ حقوق کا فیصلہ صرف سول عدالت یا مجاز ٹریبیونل کرے گا۔

  • مندر یا اوقافی زمینوں کے تنازعات کے حل کے لیے انڈومنٹ ٹریبیونلز ہی فورم ہوں گے۔

یہ فیصلہ نہ صرف زمین کے معاملات میں شفافیت لائے گا بلکہ عدالتوں پر بڑھتے بوجھ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ زمین کے معاملات میں عدالتی رہنمائی حاصل کرنے والوں کے لیے یہ ایک واضح اصول فراہم کرتا ہے، جو مستقبل کے کیسز کے لیے نظیر بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button