انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں انصاف، پلکت آریہ سمیت تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا
فیصلے کے موقع پر عدالت کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے
دہرادون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتراکھنڈ کے مشہور 19 سالہ انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں تقریباً تین سال بعد عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا۔ کوٹدوار کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج (ADJ) عدالت نے جمعہ کے روز ریزورٹ کے مالک پلکت آریہ اور اس کے دو ساتھیوں سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے تینوں ملزمان کو انڈین پینل کوڈ (IPC) کی دفعات 302 (قتل)، 210B (اجتماعی جرم)، اور 201 (شواہد مٹانے) کے تحت قصوروار پایا۔
فیصلے کے موقع پر عدالت کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ پاؤڑی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس لوکیشور سنگھ نے بتایا کہ عدالت کے 100 میٹر کے دائرے کو زیرو زون قرار دیا گیا تھا جہاں صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت تھی۔
پراسیکیوشن کے خصوصی وکیل اوینیش نیگی نے 19 مئی کو دلائل مکمل کیے تھے جس کے بعد عدالت نے 30 مئی کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس مقدمے کی سماعت 30 جنوری 2023 کو ADJ عدالت میں شروع ہوئی تھی، جس میں 500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
واضح رہے کہ پلکت آریہ بی جے پی کے سابق رہنما ونود آریہ کا بیٹا ہے، جنہیں 2021 میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ ونود آریہ ترویندر سنگھ راوت حکومت میں وزیر مملکت کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
انکیتا بھنڈاری، جو کہ ریشی کیش کے واننترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھی، 18 ستمبر 2022 کو لاپتہ ہو گئی تھی۔ چھ دن بعد اس کی نعش چلہ کینال سے برآمد ہوئی۔
تحقیقات سے پتہ چلا کہ پلکت آریہ اور اس کے ساتھیوں نے ایک جھگڑے کے بعد انکیتا کو بیراج میں دھکا دے دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد عوامی غصے کی لہر دوڑ گئی تھی، خاص طور پر جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انکیتا پر ریزورٹ کے مہمانوں کو "خصوصی خدمات” فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
کیس کی طویل سماعت کے دوران استغاثہ نے 97 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی، جن میں سے 47 کو عدالت نے دوران سماعت سنا۔
عوامی حلقوں اور انکیتا کے اہل خانہ نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ انصاف میں دیر ہوئی، مگر بالآخر انصاف ملا۔



