جیل میں قید لارنس بشنوئی کے لیے آسٹریلیا سے مہنگے تحائف، سیکورٹی ایجنسیاں چوکس
پرسرار پارسل بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے تشویش
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سابرمتی سینٹرل جیل، گجرات میں قید خطرناک گینگسٹر لارنس بشنوئی کے لیے آسٹریلیا سے آنے والا ایک پرسرار پارسل بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ یہ پارسل گجرات کے فارن پوسٹ آفس میں پکڑا گیا، جہاں بین الاقوامی کھیپوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی اس پارسل کی تفصیلات سامنے آئیں، تفتیشی ایجنسیاں متحرک ہو گئیں اور اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پارسل ایک خاتون "وندنا گور” کے نام سے آسٹریلیا سے بھیجا گیا، تاہم تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ نام اور پتہ جعلی ہیں۔ پارسل کھولنے پر اس میں صرف ایک تولیہ اور ایک شیور برآمد ہوا، لیکن اس سادہ سی چیز نے بھی حکام کو شک میں ڈال دیا۔ سوال یہ اٹھا کہ آخر ان معمولی اشیاء کے لیے بیرونِ ملک سے اتنا مہنگا پارسل کیوں بھیجا گیا؟
مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پارسل کے لیے تقریباً 7000 روپے کی بین الاقوامی ڈاک خرچ کی گئی، جو ان اشیاء کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں اس پہلو پر غور کر رہی ہیں کہ کہیں یہ پارسل جیل میں کسی بڑی اسمگلنگ یا سازش کی آزمائش تو نہیں تھا۔ حکام کا ماننا ہے کہ ممکن ہے یہ ایک "ٹیسٹ کورئیر” ہو، جس کے ذریعے یہ پرکھا گیا ہو کہ کیا جیل میں ممنوعہ اشیاء کی ترسیل ممکن ہے یا نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب لارنس بشنوئی یا اس جیسے گینگسٹرز کو جیل میں اشیاء بھیجنے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس سے قبل بھی کئی ریاستوں میں ایسی وارداتوں کی خبریں سامنے آ چکی ہیں، جہاں قیدیوں کو بیرون ملک یا دیگر ذرائع سے سامان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ان تمام واقعات نے جیل انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اسی دوران مہاراشٹر کے ضلع یوتمل سے پولیس نے ایک خطرناک ہسٹری شیٹر کو گرفتار کیا ہے، جو لارنس بشنوئی اور بنی گجر گینگ سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ملزم گزشتہ دو برس سے یوتمل کے جمب روڈ علاقے میں روپوش تھا۔ وہ 2023 میں راجستھان کے ضلع برمر میں ایک قتل کے مقدمے کے بعد سے مفرور تھا اور اس پر 25000 روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔
پولیس کے مطابق مذکورہ شخص پنجاب میں بھتہ خوری کے ایک مقدمے میں سزا یافتہ ہے اور اس پر پنجاب اور راجستھان میں مجموعی طور پر 16 سنگین مقدمات درج ہیں۔ اس گرفتاری نے ایک بار پھر اس نیٹ ورک کی سنگینی کو ظاہر کیا ہے، جو لارنس بشنوئی جیسے گینگسٹرز کے زیرِ اثر ملک بھر میں سرگرم ہے۔



