الحمدللہ! عیدالاضحی کا چاند نظر آ چکا ہے۔ امت مسلمہ ایک بار پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت کو ادا کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سنت کی روح کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم قربانی کو صرف جانور ذبح کرنے تک محدود کر چکے ہیں؟
عید کا یہ مبارک موقع ہمیں نہ صرف جانور کی قربانی کی دعوت دیتا ہے بلکہ اپنے نفس، خواہشات، تکبر، ریاکاری اور جہالت کی قربانی کا بھی پیغام دیتا ہے۔ مگر افسوس! ہم میں سے اکثر لوگ صرف جانور کے ذبح کو ہی قربانی سمجھ بیٹھے ہیں۔
نمائش کی قربانی نہیں، تقویٰ کی قربانی کیجئے
ہندوستان و پاکستان سمیت عالم اسلام میں مسلمان عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ گلی کوچوں میں جانوروں کی رونقیں، سجی سجائی گاڑیاں، قیمتی نسلوں کے بیل اور اونٹ، اور ان کے ساتھ فخر سے چلتے نوجوان۔ ہر کوئی گویا اعلان کر رہا ہو:
"ہم نے اس سال اتنے لاکھ کی قربانی دی ہے!”
کہیں نوجوان جانوروں کی "کشتیاں” کروا کر خوش ہو رہے ہیں، تو کہیں مسجدوں کے باہر شور و غوغا۔ اذان، نماز، اور عبادت سے غفلت، مگر جانور کے ساتھ ویڈیوز بنانا، تصویریں کھینچنا، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگانا… گویا یہی قربانی کا اصل مقصد رہ گیا ہو۔
عورتیں پکوانوں میں مصروف، مرد نمائش میں مصروف
گھروں میں مصالحے تیار ہو رہے ہیں، خواتین پکوانوں کی نئی نئی تراکیب یوٹیوب سے سیکھ رہی ہیں، فریج بھرے جا رہے ہیں۔
قربانی کا گوشت مہینوں چلانے کے لیے ذخیرہ ہو رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا ہماری دین داری صرف گوشت، پکوان، کپڑے اور تصاویر کی حد تک محدود ہو چکی ہے؟
کیا یہی دین ہے؟ کیا یہی قربانی ہے؟
یہ سوال ہر مسلمان سے ہے:
کیا قربانی صرف جانور کے ذبح تک محدود ہے؟
کیا یہی تقویٰ ہے کہ ہم گوشت بانٹتے وقت بھی ناپ تول میں لگے رہیں؟
کیا یہی دینداری ہے کہ غرباء کے حصے میں چربی، ہڈیاں اور چھچڑے آئیں؟
قربانی کا گوشت ان کے لیے ہے جو خود قربانی نہیں دے سکتے۔
لیکن ہم تو اُسی کو تھیلے بھر کر دے رہے ہیں جو پہلے ہی تین جانور ذبح کر چکا ہے، صرف اس لیے کہ کل وہ بھی ہمیں واپس گوشت دے گا۔
یہ قربانی ہے یا "سٹہ بٹہ”؟
اصل قربانی کہاں ہو رہی ہے؟
فلسطین، غزہ، یمن، شام، برما — وہاں اصل قربانی ہو رہی ہے۔
جہاں مسلمان اپنے بچوں، مال، گھروں حتیٰ کہ اپنی سانسوں کی قربانی دے رہے ہیں۔
جہاں ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو اللہ کے حوالے کر رہی ہے۔
جہاں نوجوان بغیر ہتھیار کے مسجد اقصیٰ کا محافظ بنے کھڑے ہیں۔
ہم کیا دے رہے ہیں؟
چند دن چارہ کھلا کر، ویڈیو بنا کر، جانور کے ساتھ سیلفی لے کر اور پھر ذبح کر کے سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈال کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑی عبادت کر لی۔
قربانی کا وقار بحال کیجئے
خدارا!
قربانی کی روح کو سمجھیے۔
جانور ذبح کیجئے، دل کھول کر کیجئے، لیکن
نہ تو اس کی ویڈیوز بنائیں، نہ تصاویر شائع کریں، نہ ہی سوشل میڈیا پر گوشت، پکوان، دسترخوان کی نمائش کریں۔
یہ عمل نہ صرف ریاکاری ہے بلکہ غریب، مجبور اور مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
عبرت کا لمحہ: جب فریزر عبادت سے بڑا ہو جائے
جب گوشت سے بھرا فریزر ہماری عبادت کا پیمانہ بن جائے
جب عید کی خوشیاں صرف "دکھاوا” بن جائیں
جب گوشت کی تقسیم میں بھی "دوستی، رشتہ داری، اور بدلہ” کا اصول چلنے لگے
تو یقین رکھیے، ہم عبادت نہیں بلکہ تماشہ کر رہے ہیں۔
فلسطینی مجاہدوں کو یاد رکھئے
جب آپ قربانی کے جانور کے ساتھ تصویریں لے رہے ہوں
تو یاد رکھئے،
کہ فلسطینی ماں نے اپنے بچے کو اللہ کے راستے میں قربان کر دیا ہے۔
جب آپ سیخ کباب، قورمہ، بریانی کی خوشبو میں مست ہوں
تو یاد رکھیے،
وہ فلسطینی بھائی روٹی کے ایک ٹکڑے کو ترس رہا ہے۔
حقیقی قربانی کا شعور اپنائیے
یہ وقت ہے کہ ہم خود کو بدلیں،
قربانی کو دوبارہ اُس مقام پر لے جائیں جس کی توقع اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ ہم سے کرتے ہیں۔
عید منائیں، خوشیاں بانٹیں، قربانی کریں، مگر دکھاوا نہ کریں۔
قربانی کو نمائش نہیں، تقویٰ کا ذریعہ بنائیں۔
"جب کبھی غرور چھا جائے، جب بھی خود کو بڑا محسوس کریں… فلسطینی ماں کی وہ تصویر یاد کیجئے جو اپنے شہید بیٹے کے کفن کو چوم رہی ہے۔ ان شاء اللہ، قربانی کا اصل مطلب سمجھ آ جائے گا۔”



