کمل ہاسن کو کرناٹک ہائی کورٹ کی سخت سرزنش، کہا: "اظہار رائے سے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائیں”
کنڑ زبان کی اصل پر متنازعہ تبصرہ کیا ہے،
بنگلورو، 3 جون (اردو دنیا / ایجنسیز):معروف اداکار و سیاستدان کمل ہاسن کنڑ زبان پر دیے گئے متنازعہ بیان کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو ان کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کو لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا ذریعہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔
جسٹس ایم ناگاپراسنا کی سربراہی والی بنچ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب کمل ہاسن نے اپنی فلم "ٹھگ لائف” کی کرناٹک میں ریلیز کے لیے پولیس تحفظ طلب کیا۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں پوچھا کہ جب انہوں نے خود کنڑ زبان کی اصل پر متنازعہ تبصرہ کیا ہے، تو وہ تحفظ کس بات کا مانگ رہے ہیں؟
کمل ہاسن نے حالیہ دنوں میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ "کنڑ زبان کی جڑ تمل زبان میں ہے”۔ اس بیان کے بعد نہ صرف کرناٹک بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی شدید احتجاج شروع ہو گیا، خاص طور پر بی جے پی اور کنڑ حامی تنظیموں نے ان پر سخت تنقید کی اور غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نے کمل ہاسن کے وکیل سے براہِ راست سوال کیا کہ "کیا وہ معافی مانگنے کو تیار ہیں؟” اور کیس کی سماعت کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا۔ عدالت نے ایک تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "1950 میں سی راجگوپالاچاری نے بھی ایسا ہی بیان دیا تھا، لیکن احتجاج کے بعد معافی مانگی”۔
جسٹس نے مزید کہا:
"آپ فلم کو کرناٹک میں ریلیز کرکے پیسہ کمانا چاہتے ہیں، لیکن معافی نہیں مانگ رہے۔ میں بھی آپ کی فلم دیکھنا چاہتا ہوں، مگر اس تنازعے کی وجہ سے نہیں دیکھ پا رہا۔”
کمل ہاسن کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ اداکار نے کسی زبان کی توہین نہیں کی، بلکہ محض تاریخی رائے کا اظہار کیا۔ تاہم عدالت کا مؤقف تھا کہ اگر بیان سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے تو معافی مانگ کر معاملہ ختم کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 28 مئی کو چنئی میں منعقدہ تقریب میں کمل ہاسن نے اپنی فلم "ٹھگ لائف” کی تشہیر کرتے ہوئے کہا تھا:
"کنڑ کی پیدائش تمل سے ہوئی ہے۔”
انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز بھی تمل الفاظ "اوئیرے اوراوے” (میری زندگی اور میرا خاندان) سے کیا، جس پر تنازع مزید بھڑک اٹھا۔ کمل ہاسن کی فلم ٹھگ لائف 5 جون کو ریلیز ہونے والی ہے، مگر کرناٹک میں اس کی نمائش غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔



