آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کا الزام،عدالت نے شکور خان کو 7 روزہ ریمانڈ پر بھیجا
عدالت نے 7 دن کے لیے پولیس ریمانڈ کی منظوری دی۔
جے پور، 3 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار شکور خان کو جے پور کی عدالت نے 7 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ شکور کو پولیس نے چند روز قبل جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔
منگل کے روز شکور خان کو جے پور کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے 7 دن کے لیے پولیس ریمانڈ کی منظوری دی۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ وہ مستقل طور پر ایک شخص دانش کے رابطے میں تھا اور پاکستان میں مختلف نمبروں پر واٹس ایپ کالز کے ذریعے آئی ایس آئی سے رابطے میں رہتا تھا۔
واضح رہے کہ انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ نے شکور خان کو 28 مئی کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ شکور جیسلمیر کے ڈسٹرکٹ ایمپلائمنٹ آفس میں کلرک کے طور پر تعینات تھا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ شکور کی ڈیوائس سے پاکستان سے متعلق فون نمبرز ملے ہیں، جو کہ قابل تشویش بات ہے۔
سیکورٹی اداروں کو پہلے ہی شکور پر شک تھا کہ وہ پاکستان کے لیے خفیہ معلومات فراہم کر سکتا ہے، اسی بنا پر اس کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ جیسلمیر میں پوچھ گچھ کے بعد انٹیلی جنس ٹیم اسے لے کر جے پور پہنچی۔
ذرائع کے مطابق شکور خان ماضی میں راجستھان میں کانگریس حکومت کے دوران وزیر صالح محمد کے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کر چکا ہے۔ دونوں کا تعلق قریبی گاؤں سے ہے، جن کے درمیان تقریباً آٹھ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ صالح محمد دو بار ایم ایل اے اور وزیر رہ چکے ہیں، اور اشوک گہلوت کی پچھلی حکومت میں بھی سرگرم رہے ہیں۔
شکور کی گرفتاری پر مرکزی وزیر ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"میں غیر ملکی دورے سے واپس آیا ہوں اور مجھے اطلاع ملی ہے کہ صالح محمد کے پرسنل اسسٹنٹ شکور خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔”



