
روس، یوکرین جنگ میں نیا موڑ: ٹرمپ پوٹن و زیلنسکی سے ملاقات پر تیار
رمپ، پوٹن اور زیلنسکی کی ممکنہ ملاقات کی تجویز
انقرہ – ۳ جون (اردو دنیا ڈاٹ اِن/ایجنسیز):روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی امیدیں ایک بار پھر مایوسی کا شکار ہوئیں، تاہم سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک نئی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کو اس ماہ کے اختتام پر استنبول یا انقرہ میں براہ راست ملاقات کرنی چاہیے۔
ٹرمپ کی آمادگی، وائٹ ہاؤس کا مؤقف
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن میں بتایا کہ "صدر ٹرمپ تین سالہ جنگ کو ختم کرنے کے خواہشمند ہیں اور اگر دونوں رہنما میز پر بیٹھنے پر راضی ہوں تو وہ سہ فریقی اجلاس کے لیے تیار ہیں۔”
یہ بات اہم ہے کہ پیر کو استنبول میں روس-یوکرین وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت میں امریکی نمائندہ شریک نہیں تھا۔ اس کے باوجود، یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا، "ہم امریکہ سے سخت اقدامات کی توقع رکھتے ہیں” اور مطالبہ کیا کہ ٹرمپ روس پر مزید پابندیاں عائد کریں تاکہ مکمل جنگ بندی کی راہ ہموار ہو۔
استنبول ملاقات میں کیا ہوا؟
استنبول میں پیر کو ہونے والی بات چیت میں یوکرین نے روس سے غیر مشروط جنگ بندی کی اپیل کی، جسے ماسکو نے مسترد کر دیا۔ روس نے صرف فرنٹ لائن کے کچھ علاقوں میں 2 سے 3 دن کی جزوی جنگ بندی کی پیشکش کی تاکہ میدان جنگ سے نعشیں جمع کی جا سکیں۔
روس نے مزید شرائط بھی رکھیں، جن میں چار متنازع علاقوں—ڈونیٹسک، لوگانسک، ژاپوریزیا، اور خیرسون—سے یوکرینی افواج کا انخلا، نیٹو میں شمولیت پر پابندی، اور مغربی حمایت کا خاتمہ شامل ہیں۔
قیدیوں اورنعشوں کی واپسی پر اتفاق
دونوں فریقوں نے شدید زخمی فوجیوں اور 25 سال سے کم عمر کے جنگی قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا۔ روسی مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی کے مطابق، اس تبادلے میں کم از کم 1000 قیدی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، تقریباً 6000 فوجیوں کی نعشوں کی واپسی پر بھی معاہدہ طے پایا۔
روسی مؤقف اور زیلنسکی کا ردعمل
یوکرینی نائب وزیر خارجہ سرگئی کیسلیٹسیا نے پریس کانفرنس میں بتایا، "روسی فریق غیر مشروط جنگ بندی کی مسلسل مخالفت کر رہا ہے۔” دوسری جانب میڈنسکی نے کہا، "ہم نے مخصوص علاقوں میں محدود جنگ بندی کی تجویز دی ہے تاکہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں اٹھائی جا سکیں۔”
یوکرینی صدر زیلنسکی نے اس تجویز پر طنز کرتے ہوئے کہا، "یہ بیوقوفی ہے، کیونکہ جنگ بندی کا مقصد جانیں بچانا ہونا چاہیے، لاشیں جمع کرنا نہیں۔”
یہ مذاکرات 2022 کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ تھا، جو یوکرین کے حالیہ روسی ایئر بیسز پر حملوں کے بعد ہوا۔ ترکی، جو مذاکرات کا میزبان بھی تھا، ثالث کے طور پر شریک رہا۔
ترک صدر ایردوآن کی سہ فریقی ملاقات کی تجویز پر زیلنسکی نے رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ پوٹن نے تاحال انکار کیا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ٹرمپ کی شمولیت اس تعطل زدہ امن عمل میں کوئی تبدیلی لا سکتی ہے۔



