قومی خبریں

اقلیتی کمیشن میں خالی عہدوں کو جلد پُر کرنے کا حکم ، ہائی کورٹ کی مرکزی حکومت کوسخت پھٹکار

 

HCنئی دہلی: (اردودنیا.اِن)دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو قومی اقلیتی کمیشن میں خالی عہدے بھرنے کی درخواست کے جواب میں مرکز کی طرف سے دائر حلف نامے کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔جسٹس پرتیبھا سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کمیشن کے چیئرمین اور بدھ، عیسائی، پارسی، سکھ اور جین برادریوں کے ممبروں سمیت متعدد عہدوں پر مرکزی حکومت کی طرف سے ایک مقررہ مدت کے اندر بھرتی تیز کی جانی چاہئے۔

عدالت نے کہا کہ یہ قبول کرلیا گیا ہے کہ 6 میں سے پانچ آسامیاں خالی ہیں۔ہائی کورٹ نے کہاکہ اس دلیل سے کہ شہرت، قابلیت اور تجربے کے حامل افراد کی تقرری کی جائے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذکورہ تقرریوں کو تیزی سے پر نہیں کیا جانا چاہئے۔

ان خالی آسامیوں کو تیزی سے پُر کیا جانا چاہئے اور کام مناسب حدود میں ہونا چاہئے۔ جسٹس سنگھ نے مرکز کو ہدایت دی کہ وہ ایک ہفتے میں مخصوص تقرری پر ڈیڈ لائن کے ساتھ رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے کیس میں سماعت کی اگلی تاریخ 15 اپریل مقرر کی۔

درخواست گزار ابھے رتن بدھ نے بتایا ہے کہ اکتوبر 2020 سے کمیشن میں صرف ڈپٹی چیئرمین ہی اس کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔عدالت اقلیتی وزارت کی خلاف ورزی پر غور کررہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقلیتی کمیشن ایکٹ میں اس کے ممبران کی تقرری کے لئے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی ہے اورنہ انتظامیہ آسامیوں کو پر کرنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

جسٹس سنگھ نے کہا کہ وہ اس حلف نامہ سے چونک گئے، حلف نامے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت یہ کہہ رہی ہے کہ اس وقت آسامیوں کو پر کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔عدالت نے کہاکہ کچھ کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button