بین ریاستی خبریںسرورق

’لو جہاد‘ روکنے سے متعلق بل مدھیہ پردیش کی قانون ساز اسمبلی سے منظور،10سال کی قیدسزا

لو

بھوپال: (اردودنیا.اِن)مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی میں پیر کو ’مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل2021‘ منظور کیا گیا۔ اس بل میں شادی اور کسی اور غلط طریقے سے کئے گئے تبدیلی مذہب کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزامقرر ہے۔

مدھیہ پردیش کی گورنر آنندین پٹیل کی منظوری ملنے پر یہ قانون 9 جنوری کو مطلع شدہ مدھیہ پردیش مذہبی آزادی آرڈیننس 2020 کی جگہ لے گا۔ ریاستی وزیر داخلہ نوروتم مشرا نے یکم مارچ کو ایوان میں بل پیش کیا تھا اور پیر کو بحث کے بعد اسے صوتی ووٹ کے ذریعہ منظور کیا گیا ۔

قانون کے مطابق اب جبری طور پر خوفزدہ، ڈرانے، دھمکانے، آمادہ کرنے، تبدیلی مذہب کرنے اور شادی کرنے پرجیسے ہی اس قانون کے خلاف شکایت موصول ہوتی ہے متعلقہ دفعات کے مطابق ملزمان کے خلاف کاروائی کی جائے گی ، ایسی کوئی شادی جو ریاستی حکومت کے اس قانون کی خلاف ورزی کرتی ہو،رد سمجھا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button