بین الاقوامی خبریں

نیویارک اور لاس اینجلس میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف زبردست مظاہرے، پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے

ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف نیویارک میں ہزاروں افراد کا احتجاج

 نیویارک،۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے خلاف نیویارک شہر میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ ‘امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE)’ کے حالیہ چھاپوں کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے تارکین وطن میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

مظاہرین نے "کوئی نفرت نہیں، کوئی خوف نہیں، تارکین وطن کو خوش آمدید” جیسے نعرے لگا کر اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔ احتجاج کا مرکز فولے سکوائر تھا، وہی مقام جہاں حال ہی میں کئی تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا تھا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مظاہرہ کرنے والی ایک خاتون نے کہا:
"میں ان لوگوں کے لیے یہاں کھڑی ہوں جن کی آواز سنی نہیں جاتی، خاص طور پر اپنی والدہ کے لیے۔ یہ ملک تارکین وطن کے بغیر کبھی ترقی نہ کر پاتا۔”

۲۳ سالہ جیکولین نے جذباتی انداز میں کہا:
"میں اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے نکلی ہوں۔ میں ایسے معاشرے سے خوفزدہ ہوں جہاں میرے اپنے رشتہ دار غیر محفوظ ہوں۔”

ادھر نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لاس اینجلس میں ہونے والے بعض مظاہرے ناقابل قبول ہیں اور نیویارک میں اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا:
"نیویارک پولیس ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سماج تقسیم کا شکار ہو۔”

قابل ذکر ہے کہ فیڈرل امیگریشن حکام کے چھاپوں میں گزشتہ چند ہفتوں سے واضح اضافہ ہوا ہے، جس سے امریکہ بھر میں تارکین وطن کے درمیان عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی ہے۔


لاس اینجلس میں مظاہروں نے پکڑلی شدت، پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے

لاس اینجلس، ۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی ریاست لاس اینجلس میں بدھ کے روز صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف مظاہروں میں شدت آ گئی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں نے صورتِ حال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ پولیس نے غیر قانونی تارکین وطن کے حراستی مراکز کی طرف جانے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، متعدد کو گرفتار کیا اور صحافیوں کو جیل بھیجنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

میڈیا پر قدغن اور صحافیوں کی دھمکیاں
العربیہ کے مطابق میڈیا کی کوریج محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھا، کچھ صحافیوں کو پوچھ گچھ کے بعد قید کی وارننگ دی گئی۔ کئی مظاہرین نے الٹا امریکی پرچم لہرا کر ریاستی نظام کے خلاف پیغام دینے کی کوشش کی۔

پرتشدد مظاہرے، کاروبار متاثر
شہر کی کئی گلیوں میں دکانوں پر حملے، لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ایپل اسٹور سمیت کئی کاروبار بند ہو گئے۔ خوف کے باعث دکان داروں نے لکڑی کے تختے لگا دیے، کئی دکانیں خالی کر دی گئیں۔ العربیہ کی رپورٹ میں حالات کو "جنگی منظرنامے” سے تعبیر کیا گیا۔

فوجی تعیناتی پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے فوج کی تعیناتی روکنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ میئر کارن باس نے بھی صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "شہر کو احتجاج روکنے کے لیے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے”۔

ٹرمپ نیوسم محاذ آرائی
صدر ٹرمپ نے نیوسم اور کارن باس پر سیکیورٹی کی ناکامی کا الزام عائد کیا۔ اس بحران نے نیوسم کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے، اور وہ ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر خود کو نمایاں کر رہے ہیں۔ ٹرمپ اور نیوسم کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی دونوں کے لیے سیاسی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔

احتجاج کی توسیع اور عسکری تعیناتی
یہ مظاہرے چھ جون سے جاری ہیں اور اب ڈلاس، آسٹن سمیت دیگر شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ حالیہ اعلان کے مطابق صدر ٹرمپ کے حکم پر دو ہزار نیشنل گارڈز اور سات سو میرینز پر مشتمل ٹاسک فورس 51 تعینات کی جا رہی ہے۔ تاہم ریاست کیلیفورنیا نے اس اقدام کو وفاقی زیادتی قرار دے کر عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button