مسجد الجبیل کی بحالی کے بعد عیدالاضحیٰ کی پہلی نماز، تین صدیوں پر محیط تاریخی لمحہ
تین صدیوں بعد نئی صبح: مسجد الجبیل میں عید الاضحی کی پہلی نماز
طائف، ۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)عید کی پاکیزہ ساعتوں اور تاریخ کی خوشبو سے لبریز ایک روح پرور منظر میں، طائف کے جنوبی علاقے ثقیف کے مرکز میں واقع مسجد الجبیل کی از سر نو تعمیر و تزئین کے بعد وہاں عید الاضحی کی پہلی نماز ادا کی گئی۔
یہ تعمیر نو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے تاریخی مساجد کی تعمیر و ترقی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔ یہ عید ایک منفرد موقع بن گئی جس نے مکہ مکرمہ صوبے کی ایک قدیم مسجد میں نئی زندگی پھونک دی۔
عید کے روز صبح کی تکبیرات کے ساتھ ہی مقامی لوگ اس تاریخی مسجد کی طرف امڈ آئے جس کی تعمیر کو 300 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ مسجد کی راہ داریاں اور نماز کی جگہ خوشی، روحانیت اور شکر گزاری کے مناظر سے بھر گئیں، جب کہ قومی منصوبے نے اس کے خد و خال کو بحال کرتے ہوئے اس کی اصل فن تعمیر کو بھی محفوظ رکھا۔
تین صدیوں پر محیط ایک مسجد کی تاریخ
مسجد الجبیل، ثقیف کے مرکز میں واقع الجبیل گاؤں میں موجود ہے۔ یہ طائف اور باحہ کو ملانے والی ‘حسان بن ثابت شاہراہ’ سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مختلف تاریخی ذرائع اور روایتوں کے مطابق اس کی موجودہ عمارت تین سو سال سے زیادہ پرانی ہے، جو اس علاقے کی تہذیبی اور دینی گہرائی کی شاہد ہے۔
ترقیاتی کام: ورثے کی حفاظت، موجودہ ضرورت کی تکمیل
شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی تعمیر نو کے منصوبے کے تحت مسجد کی پرانی عمارت کی مرمت مقامی طرزِ تعمیر کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت باریکی سے کی گئی، اور جدید ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس میں سہولیات شامل کی گئیں۔
مسجد کا رقبہ 287 مربع میٹر سے بڑھا کر 310 مربع میٹر کر دیا گیا، جب کہ اس میں نمازیوں کی گنجائش 45 افراد پر برقرار رکھی گئی۔
ایک ایسا منصوبہ جو نسلوں کو جوڑتا ہے
مسجد الجبیل کی ترقی کا یہ منصوبہ ایک وسیع تر قومی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک بھر کی 130 سے زائد تاریخی مساجد کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔
اس منصوبے میں فنِ تعمیر کی اصل خوبصورتی کو جدید انتظامی ڈھانچے سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، جو سعودی قیادت کے معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کو فروغ دینے کے عزم کا مظہر ہے۔
ترمیم کے بعد پہلی عید کی نماز کے ساتھ، مسجد الجبیل ایک بار پھر روحانیت اور تاریخ کی روشنی بن کر ابھری، اور یہ منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ورثے کی حفاظت صرف پتھروں کی مرمت نہیں، بلکہ اس مقام کی روح کو زندہ کر کے اسے لوگوں کی زندگی سے جوڑنے کا عمل ہے۔



