سرورققومی خبریں

احمدآباد میں بڑا ہوائی حادثہ: ایئر انڈیا کا طیارہ کریش، 242 مسافر سوار تھے

احمدآباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز کریش، 242 افراد سوار، سابق وزیراعلیٰ بھی طیارے میں موجود

احمدآباد، 12 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)احمدآباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی بین الاقوامی پرواز AI171 جمعرات کی دوپہر ایک ہولناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ بوئنگ 787-8 ڈریملائنر طیارہ، جو سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دوپہر 1:10 بجے لندن کے گیٹوک ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تھا، پرواز کے فوراً بعد رن وے 23 سے اڑان بھرنے کے کچھ لمحوں بعد ہی ایئرپورٹ کی حدود سے باہر جا گرا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، طیارے میں کل 242 افراد سوار تھے جن میں 215 اکانومی کلاس، 15 بزنس کلاس مسافر اور 12 عملے کے ارکان شامل تھے۔ مسافروں میں 169 ہندوستانی، 53 برطانوی، 7 پرتگالی اور 1 کینیڈیائی مسافر سوار تھے۔افسوسناک طور پر اس حادثے میں 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ متعدد زخمیوں کو نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔۔

مسافروں میں ہندوستان، برطانیہ اور پرتگال کے شہری شامل تھے، جن میں کئی خاندان، بزرگ اور بچے سوار تھے۔ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور این ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔

طیارے کے گرنے کی جگہ احمدآباد کے میگھانی نگر کے قریب بتائی جا رہی ہے، جہاں سے شدید دھماکے کی آواز سنائی دی اور سیاہ دھوئیں کے گہرے بادل آسمان پر چھا گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کم از کم سات فائر ٹینڈرز اور ایمرجنسی ریسکیو ٹیمیں موقع پر روانہ کر دی گئیں، جو فوری امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

DGCA کے مطابق، طیارے نے ٹیک آف کے کچھ ہی لمحوں بعد ایئر ٹریفک کنٹرول کو “Mayday” کال دی، جو کہ ایمرجنسی سگنل ہوتا ہے۔ لیکن اس کے بعد طیارے سے کوئی رابطہ ممکن نہ ہو سکا اور وہ ایئرپورٹ کی حدود سے باہر گر گیا۔

بدقسمتی سے اس پرواز میں گجرات کے سابق وزیراعلیٰ وجے روپانی بھی سوار تھے۔بتایا جا رہا ہے کہ 68 سالہ وجئے روپانی اس بدقسمت پرواز میں 2-ڈی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ وہ لندن میں اپنی بیٹی رادھیکا سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان کی اہلیہ انجلی بین روپانی پچھلے چھ ماہ سے لندن میں مقیم ہیں، اور وجئے روپانی انہیں واپس لینے کے لیے ہی آج لندن روانہ ہوئے تھے۔

فی الحال حکام کی جانب سے وجئے روپانی کی خیریت یا ممکنہ زخمی ہونے کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ان کی موجودگی کی تصدیق پرواز کی مسافر فہرست سے ہو چکی ہے۔

"طیارے کی قیادت تجربہ کار کپتان سمیّت سبھروال کر رہے تھے، جن کے پاس 8200 گھنٹے پرواز کا وسیع تجربہ تھا، جبکہ ان کے ہمراہ فرسٹ آفیسر کلائیو کندر موجود تھے، جنہوں نے 1100 گھنٹے پرواز کا تجربہ حاصل کر رکھا تھا۔”Flightradar24 کے مطابق، یہ طیارہ اسی دن صبح دہلی سے احمدآباد پہنچا تھا اور پھر لندن کے لیے روانہ ہوا۔

ایئر انڈیا کا طیارہ احمدآباد کے میگھانی نگر علاقے میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی عمارت پر آ گرا۔ اس افسوسناک حادثے میں نہ صرف طیارے میں سوار کئی مسافر ہلاک ہوئے، بلکہ میڈیکل کالج کے کئی طلبا بھی زد میں آ گئے۔ حادثے کی ویڈیوز اور تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جن میں طیارے کا پچھلا حصہ ہاسٹل کی عمارت سے لٹکتا ہوا اور اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ شدہ حالت میں دکھائی دے رہا ہے، جہاں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے نظر آ رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ پرواز کے صرف پانچ منٹ بعد ہی ہاسٹل کی عمارت سے ٹکرا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہاسٹل کی چھت پر موجود کینٹین میں اس وقت درجنوں طلبا لنچ کر رہے تھے یا لنچ مکمل کر چکے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حادثے میں تقریباً دو درجن طلبا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، تاہم حکام کی جانب سے اس کی سرکاری تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔ دریں اثنا، متعدد طلبا کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے، جنہیں قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے، اور خون کے عطیے کی اپیل بھی عوام سے کی جا رہی ہے۔

حادثے کے بعد ایک طالب علم کی ماں، رمیلا نامی خاتون کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا لنچ بریک کے دوران ہاسٹل میں موجود تھا جب طیارہ گرا۔ خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہا، لیکن جان بچانے کے لیے دوسری منزل سے چھلانگ لگانا پڑی، جس سے اسے کچھ چوٹیں آئیں۔ رمیلا حادثے کی خبر سنتے ہی فوراً احمدآباد کے سول اسپتال پہنچیں، اور بیٹے سے ملاقات کر کے اطمینان کا سانس لیا۔

یہ حادثہ نہ صرف ایئر انڈیا کے لیے، بلکہ احمدآباد کے تعلیمی حلقے خصوصاً بی جے میڈیکل کالج کے لیے ایک ناقابل فراموش سانحہ بن کر رہ گیا ہے۔ حکام کی جانب سے تفتیش جاری ہے اور امدادی کاموں میں تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ ملبے تلے دبے ممکنہ زخمیوں یا نعشوں کو نکالا جا سکے۔

عینی شاہدین کے مطابق، حادثے سے احاطے میں موجود کئی عمارتیں شدید متاثر ہوئیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ بوئنگ 787-8 ڈریملائنر طیارہ انتہائی نیچی پرواز کر رہا تھا اور سیدھا سرکاری میڈیکل کالج کے ان رہائشی کوارٹرز سے آ ٹکرایا، جو پانچ منزلہ عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ ایک مقامی شخص نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا، "طیارے کی پرواز بہت نیچی تھی، اور جیسے ہی وہ کوارٹرز سے ٹکرایا، عمارتوں میں زوردار دھماکے کے ساتھ آگ بھڑک اٹھی۔”

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آگ کی لپیٹ میں آ کر اپارٹمنٹس میں موجود متعدد افراد زخمی ہو گئے، جبکہ احاطے میں کھڑی کئی کاریں اور گاڑیاں بھی جل گئیں۔ اگرچہ فوری طور پر حکام کی جانب سے زخمیوں یا ہلاکتوں کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، لیکن عینی شاہدین نے تباہی کی شدت کو "خوفناک” قرار دیا۔

احمد آباد ایئرپورٹ سے نزدیکی ہونے کے باعث رہائشی کوارٹرز میں موجود افراد کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپندر پٹیل نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور فوری تفتیش کے احکامات دیے ہیں۔

کانگریس کے سینئر رہنما اور ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا:

"میگھانی نگر میں پیش آئے اس ہوائی حادثے پر گہرا دکھ ہوا۔ معصوم جانوں کا یوں اچانک ضائع ہو جانا دل دہلا دینے والا ہے۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مکمل تحقیقات کرائے تاکہ اس طرح کے المناک حادثات دوبارہ نہ ہوں۔”

حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے شہری ہوابازی کے محکمے نے انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

کسی بھی طیارے کی “Mayday” ایک ایمرجنسی پیغام ہوتی ہے، جو پائلٹ اُس وقت قریبی ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کو بھیجتا ہے جب طیارہ کسی سنگین خطرے سے دوچار ہو۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب طیارے کا انجن فیل ہو جائے، آگ لگ جائے، فضا میں کسی دوسرے جہاز سے ٹکر کا خدشہ ہو، یا ہائی جیکنگ جیسا واقعہ پیش آ جائے۔ ایسے حالات میں پائلٹ فوری طور پر "مے ڈے کال” دیتا ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے کہ طیارے کو فوری امداد درکار ہے۔ یہ کال ریڈیو پر تین بار دہراتے ہوئے دی جاتی ہے: "مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے” تاکہ کنٹرول ٹاور اور دیگر ہوائی جہاز واضح طور پر اس ایمرجنسی کو سمجھ سکیں اور فوراً ردعمل دے سکیں۔

🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!
🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ
https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

متعلقہ خبریں

Back to top button