رامپور: عبداللہ اعظم پر 4.64 کروڑ روپے کا جرمانہ، زمین خریداری میں اسٹامپ ڈیوٹی چوری کا الزام
عبداللہ اعظم خان پر 4.64 کروڑ روپے کا جرمانہ، جائیداد ضبطی کا امکان
رامپور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم خان کے بیٹے، عبداللہ اعظم خان ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ اس بار ان پر زمین کی خریداری میں دھوکہ دہی اور اسٹامپ ڈیوٹی چوری کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے تحت رامپور کی عدالت نے اُن پر 4 کروڑ 64 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔
یہ معاملہ بیجل گھاٹم پور علاقے میں تین زمینوں کی خریداری سے متعلق ہے، جہاں عبداللہ اعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر طے شدہ سرکل ریٹ کے مطابق مکمل اسٹامپ ڈیوٹی ادا کرنے کے بجائے کم اسٹامپ پر رجسٹری کرائی، جسے سرکاری خزانے کے ساتھ دھوکہ دہی قرار دیا گیا۔
معاملے کا انکشاف سب سے پہلے سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) صدر کی ابتدائی تفتیش کے دوران ہوا۔ بعد ازاں مکمل جانچ ضلع مجسٹریٹ کی عدالت میں پہنچی، جہاں 3 اپریل 2025 کو فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے عبداللہ اعظم پر جرمانہ عائد کیا۔ لیکن مقررہ مدت گزرنے کے باوجود وہ یہ رقم جمع نہ کر سکے۔
انتظامیہ کے مطابق کئی بار نوٹس بھیجے جانے کے باوجود رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر اب قانونی کارروائی کے تحت "ریکوری سرٹیفکیٹ” یعنی طلب نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت تحصیل دار کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ یا تو عبداللہ اعظم سے رقم براہ راست وصول کریں یا پھر ان کی جائیداد ضبط کر کے رقم کی تلافی کریں۔
رامپور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (فنانس) کے مطابق، اگر مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہوئی تو آئندہ مرحلے میں ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا سکتے ہیں یا ان کی املاک کو نیلامی کے لیے ضبط کیا جا سکتا ہے۔
سرکاری وکیل پرم کشور پانڈے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ زمین کی خریداری کے وقت واضح طور پر کم اسٹامپ ادا کی گئی تھی، جو قانوناً جرم ہے۔ عدالت نے مکمل شواہد کی روشنی میں فیصلہ سنایا اور اب ضلعی انتظامیہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے متحرک ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ عبداللہ اعظم خان حال ہی میں 17 ماہ قید کاٹنے کے بعد رہا ہوئے تھے، اور ان پر پہلے بھی کئی مقدمات زیر التوا ہیں۔ تازہ کارروائی ان کے لیے نئی قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔



