ہمیر پور میں حیران کن واقعہ: دفنائی گئی بیٹی شیوانی زندہ نکلی،پولیس تفتیش میں الجھ گئی
بیٹی زندہ واپس لوٹ آئی، آخری رسومات کسی اور کی ادا ہو چکی تھیں
ہمیر پور :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع ہمیر پور میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک باپ نے جس بیٹی کی نعش کی شناخت کر کے اس کی آخری رسومات ادا کی تھیں، وہ آٹھ دن بعد زندہ حالت میں برآمد ہو گئی۔ اس واقعے نے پولیس اور اہل خانہ دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
یہ معاملہ مسکورا تھانہ علاقے کے ایک گاؤں کا ہے۔ لڑکی شیوانی کچھ عرصے سے جھانسی کے مورانی پور میں اپنی نانی کے یہاں رہ رہی تھی۔ 13 مئی کو وہ اچانک لاپتہ ہو گئی۔ اس کے والد ملکھان پرجاپتی نے تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی اور گاؤں کے دو نوجوانوں — مہیش اور اس کے بیٹے منوج — پر اغوا کا الزام لگایا۔
اسی دوران 7 جون کو بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کے پل کے نیچے سے ایک سڑی گلی نعش ملی۔ پولیس نے نعش کی شناخت کے لیے تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور شیوانی کے والد کو شناخت کے لیے بلایا۔ نعش نیلی جینز اور پیلے رنگ کے ٹاپ میں تھی۔ ملکھان پرجاپتی نے اس نعش کو اپنی بیٹی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نعش اس قدر سوجی ہوئی اور بدبو دار تھی کہ ہم ٹھیک سے چہرہ دیکھ بھی نہ سکے۔
پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد نعش اہل خانہ کے حوالے کر دی، جس کے بعد ملکھان نے 7 جون کو اپنی بیٹی کی آخری رسومات ادا کیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مذکورہ دو نوجوانوں پر قتل کا مقدمہ بھی درج کرا دیا۔
پیر کے دن اس واقعے نے نیا موڑ اس وقت لیا، جب پولیس نے شام 4 بجے گوہند شہر کے قریب سے شیوانی کو زندہ برآمد کر لیا۔ تھانہ جریا کے انچارج انسپکٹر میانک چندیل کے مطابق، لڑکی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اپنے گھر والوں کا نام اور پتہ بتایا۔ اطلاع ملنے پر اس کے والد کو تھانے بلایا گیا، جو اپنی بیٹی کو زندہ دیکھ کر خوشی سے رو پڑے۔
شیوانی کے والد نے کہا، ’’ہم اپنی بیٹی کو پا کر بہت خوش ہیں۔ ہم نے نعش کو اپنی بیٹی سمجھا کیونکہ جسم بہت خراب حالت میں تھا۔ اب پولیس اس کیس کی دوبارہ تفتیش کرے۔‘‘
شیوانی کی والدہ کستوری دیوی نے بتایا کہ بیٹی ہمیں مل گئی ہے، لیکن اس نے ہم سے بات نہیں کی۔ پولیس اس سے مسلسل پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، والد کی جانب سے شناخت کی بنیاد پر نعش حوالے کی گئی تھی اور انہی کی شکایت پر مقدمہ درج ہوا تھا۔ اب جب لڑکی زندہ مل گئی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل نعش کس کی تھی؟ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ والد نے جن لڑکوں پر اغوا اور قتل کا الزام لگایا، وہ الزام درست تھا یا جھوٹا۔
پولیس کے مطابق شیوانی آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کر چکی ہے، اور اس کے والدین مزدور ہیں۔ اب پولیس اصل نعش کی شناخت، موت کی وجہ، اور جھوٹے مقدمے کی حقیقت جاننے کے لیے تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔
شیوانی نے بیان دیا کہ وہ گھر والوں کی ناراضگی کی وجہ سے خود ہی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ جس نعش کو شیوانی سمجھ کر دفن کیا گیا، وہ کون تھی؟ کیا کسی اور لڑکی کا قتل ہوا ہے؟ پولیس نے اس معاملے کی تفتیش دوبارہ شروع کر دی ہے تاکہ نعش کی اصل شناخت ہو سکے اور اگر واقعی کوئی جرم ہوا ہے تو مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔



