مردوں کو سیکس سے متعلق خواب کیوں آتے ہیں اور کیا نیند کے دوران احتلام مردانہ بانجھ پن کی علامت ہے؟
سیکس سے متعلق خواب: تحقیق کیا کہتی ہے؟
نیند کے دوران احتلام یا انزال کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں۔ بہت سے مرد یہ سمجھتے ہیں کہ نیند میں منی کا اخراج مردانہ بانجھ پن یا سپرم کی کمی کی علامت ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین صحت کے مطابق یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس سے مردانہ صحت یا زرخیزی پر منفی اثر نہیں پڑتا۔
بلوغت اور ٹیسٹوسٹیرون کا کردار
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (عالمی ادارۂ صحت) کا کہنا ہے کہ جب نوجوان لڑکے بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں، ان میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو مردانہ خصوصیات کی نشوونما کا سبب بنتا ہے اور عموماً خصیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار کبھی کبھار نیند میں خلل اور سیکس سے متعلق خوابوں کا سبب بن سکتی ہے۔
سیکس سے متعلق خواب: تحقیق کیا کہتی ہے؟
ہانگ کانگ کی شو ین یونیورسٹی کے محققین نے ایک تحقیق ("سیکس ڈریمز، ویٹ ڈریمز اور نوکٹرنل ایمیشنز”) میں جاننے کی کوشش کی کہ مردوں کو نیند میں سیکس سے متعلق خواب کیوں آتے ہیں۔
تحقیق میں شامل 80 فیصد شرکا نے بتایا کہ سوتے ہوئے سیکس کے خواب دیکھنے سے انزال ہوا۔ یہ خواب بالخصوص نوجوان لڑکوں میں زیادہ عام پائے گئے۔
شرکا کے مطابق سال میں اوسطاً نو بار اس نوعیت کے خواب آتے ہیں۔ایک عام خیال یہ ہے کہ خوابوں کا تعلق انسان کی جنسی خواہشات یا خیالات سے ہوتا ہے۔ تاہم یہ تحقیق اس خیال کو چیلنج کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ سیکس سے متعلق خواب ہر مرد میں بہت زیادہ فریکوئنسی سے نہیں آتے۔
جسم سپرم کیوں خارج کرتا ہے؟
سیکسولوجسٹ ڈاکٹر کامراج کے مطابق مرد کا جسم مسلسل سپرم پیدا کرتا رہتا ہے۔ اگر انزال نہ ہو تو یہ سپرم جمع ہوتے رہتے ہیں اور نیند کے دوران خود بخود خارج ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر بھوپتی جان کہتے ہیں کہ جیسے خواتین کو ماہواری آتی ہے، مردوں میں بھی سپرم مسلسل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس عمل کو غلط طور پر مردانہ طاقت یا بانجھ پن سے جوڑ دیا گیا، جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔
کیا نیند کے دوران احتلام بانجھ پن کی علامت ہے؟
اس حوالے سے چین کے ٹونگجی میڈیکل کالج کی تحقیق اہم ہے۔ اس تحقیق میں ان مردوں کا مطالعہ کیا گیا جنہیں Idiopathic Anejaculation یعنی انزال میں دشواری تھی، جبکہ کوئی نفسیاتی یا جسمانی وجہ نہ مل سکی۔
91 مردوں پر کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیند کے دوران خارج ہونے والے سپرم دوسرے طریقے سے حاصل سپرم کے مقابلے میں
✅ 30.6 فیصد زیادہ متحرک تھے
✅ 61.4 فیصد بڑے حجم کے تھے
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند میں انزال بانجھ پن کی علامت نہیں بلکہ جسم کی صحت مندی کا اظہار ہے۔
مزید یہ کہ تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند میں منی خارج ہونے کے بعد بھی سپرم مسلسل پیدا ہوتے رہتے ہیں، اس لیے اس سے سپرم کی کمی یا بانجھ پن کا خدشہ نہیں ہوتا۔
احتلام اور خود لذتی کا صحت پر اثر
ڈاکٹر کامراج کا کہنا ہے کہ کسی عمر میں بھی مرد کو عضو تناسل کی ایستادگی (Erectile Dysfunction) ہو سکتی ہے لیکن اس کا سپرم کی تعداد یا بانجھ پن سے تعلق ثابت نہیں۔
احتلام یا خود لذتی کے بعد جسم نئی منی پیدا کرتا ہے۔
امریکن کالج آف اوبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹ کے مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ نیند میں خارج ہونے والی منی کا معیار بعض اوقات بہتر ہوتا ہے اور اسے مصنوعی حمل کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے الیکٹرو ایجیکولیشن جیسے تکلیف دہ طریقوں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
آخر مرد سیکس سے متعلق خواب کیوں دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر بھوپتی جان کے مطابق ہر مرد کے جسم میں سپرم بنانے اور ذخیرہ کرنے کی شرح الگ ہوتی ہے۔
جب ذخیرہ زیادہ بھر جائے تو وہ نیند میں بھی خارج ہو سکتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے پانی کا ٹینک بھرنے پر پانی بہہ نکلے۔
ڈاکٹر کامراج کہتے ہیں کہ سیکس سے متعلق خواب کسی بیماری کی علامت نہیں۔
یہ خواب اچانک جنسی جذبات یا خیالات کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان خوابوں سے مردانہ طاقت یا سپرم کی صحت متاثر نہیں ہوتی۔
خود لذتی یا بغیر سیکس کے انزال دراصل اس بات کی علامت ہے کہ مرد کا جسم صحت مند ہے اور اپنا فطری عمل بخوبی انجام دے رہا ہے۔
نیند کے دوران احتلام یا سیکس سے متعلق خواب آنا ایک قدرتی، عام اور صحت مند عمل ہے۔ اس سے بانجھ پن یا سپرم کی کمی کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اگر کسی کو انزال میں دشواری ہو یا کوئی اور جنسی مسئلہ ہو تو ماہر امراض تولید سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔



