بین الاقوامی خبریں

ایپل میں بڑی انتظامی تبدیلیاں، کیا ٹِم کک رخصت ہونے والے ہیں؟

ٹِم کک رواں سال نومبر میں 65 برس کے ہو جائیں گے،

واشنگٹن،۱۴؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایپل جو اس وقت مصنوعی ذہانت کے میدان میں اگلا بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے ایک نازک موڑ سے گزر رہی ہے۔ کمپنی کو نہ صرف تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے، بلکہ بہ ظاہر ایک بڑی انتظامی تبدیلی بھی اس کی داخلی ساخت کو ہلا کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ صورت حال اس وقت سے زیادہ سنگین سمجھی جا رہی ہے جب ایپل کے بانی اسٹیو جابز کا انتقال ہوا تھا۔اگرچہ ٹِم کک کمپنی کی قیادت بدستور مضبوطی سے سنبھالے ہوئے ہیں مگر ایگزیکٹو ٹیم پر بڑھتی عمر کے آثار واضح ہونے لگے ہیں، جس کے بعد کمپنی کی مستقبل کی قیادت اور تازگی کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یہ بات بلوم برگ کے معتبر صحافی مارک گورمین نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے جو ایپل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ٹِم کک رواں سال نومبر میں 65 برس کے ہو جائیں گے، مگر فی الحال ان کے سبکدوش ہونے کا کوئی اشارہ موجود نہیں۔ کمپنی کا بورڈ جس میں ان کے قریبی افراد شامل ہیں تبدیلی کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

کک نے 2011 سے ایپل کی قیادت سنبھال رکھی ہے اور ان کے دور میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 1500 فیصد اضافہ ہوا۔ وہ ایپل کو نئی جہتوں جیسے سبسکرپشن سروسز کی طرف بھی لے کر گئے اور اب بھی بحرانوں کے دوران انہیں تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تاہم ان کی موجودگی کے باوجود کمپنی کو تنقید کا سامنا ہے خاص طور پر مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں تاخیر، مصنوعات میں اختراعات کی کمی اور وہ تخلیقی ڈیزائن ثقافت جو کبھی ایپل کی شناخت تھی اب مدھم پڑ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایپل کو ڈویلپرز اور ریگولیٹری اداروں سے بھی بڑھتے ہوئے اختلافات کا سامنا ہے۔

ایڈی کیو کی تنبیہ

ایپل کے سینیئر نائب صدر برائے سروسز، ایڈی کیو جو کک کے سب سے قابلِ اعتماد مشیروں میں شمار ہوتے ہیں نے اندرونی طور پر اور عوامی سطح پر خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے خود کو تیزی سے نہ بدلا تو وہ بلیک بیری یا نوکیا کی طرح انجام کو پہنچ سکتی ہے۔

قیادت کا بحران

ایپل کو اس وقت ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر، جیف ولیمز نے سال کے اختتام پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ ولیمز کو ٹِم کک کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ان کی جگہ سبہان خان لیں گے، تاہم ان کے تجربے اور اثر و رسوخ کا دائرہ ولیمز جتنا وسیع نہیں، خاص طور پر ڈیزائن، صحت سے متعلق ٹیکنالوجی اور ایپل واچ کے شعبوں میں وہ ولیمز سے پیچھے ہیں۔ایمرجنسی کی صورت میں ایپل کو ایک عبوری قیادت کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے، جس میں سبہان خان، نئے چیف فنانشل آفیسر کیوان پاریخ اور 35 سال سے کمپنی سے وابستہ سینئر ایگزیکٹو ڈیڈری او برائن شامل ہوں گے۔

ممکنہ جانشین: جون ٹیرنس؟

طویل مدتی بنیاد پر جون ٹیرنس جو ہارڈویئر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں کو سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ وہ ایپل کے ساتھ 20 سال سے وابستہ ہیں اور ٹِم کک سے 15 سال چھوٹے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس طویل قیادت کی گنجائش موجود ہے۔ انہیں پروڈکٹ مرکوز لیڈر سمجھا جاتا ہے جو کک کے جانشین کے لیے ایک اہم خوبی سمجھی جا رہی ہے۔تاہم ٹیرنس کے پاس مالی اور آپریشنل معاملات کا وسیع تجربہ نہیں، اس لیے ان کے لیے مالیاتی اور انتظامی ٹیم کا بھرپور تعاون ضروری ہوگا۔ کچھ مبصرین کا یہ سوال بھی ہے کہ کیا ٹیرنس ٹِم کک کا تسلسل ہوں گے، یا کسی نئی راہ کے آغاز کا اشارہ دیں گے؟

تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں

جیف ولیمز کے جانے کے بعد ایپل میں بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی گئی ہے۔ Vision Pro ٹیم کو تحلیل کر دیا گیا ہے اور اس کے ارکان کو سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کے مختلف شعبوں میں ضم کیا گیا ہے۔ اسی طرح Siri اور روبوٹکس کی ٹیموں کو بھی نئی ترتیب دی گئی ہے۔

نئی تنظیمی منصوبہ بندی کے مطابق:

ڈیزائن ٹیمز کی سربراہی آلان ڈے اور مولی اینڈرسن کریں گے، جو براہ راست ٹِم کک کو رپورٹ کریں گے۔Apple Watch اور ہیلتھ ٹیکنالوجیز کی ٹیمیں کریگ فیڈریگی کی زیرنگرانی آ جائیں گی۔Fitness+ سروس ایڈی کیو کی قیادت میں سروسز ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بن جائے گی۔AppleCare کی نگرانی سبہان خان سنبھالیں گے۔چین سے متعلقہ امور کی رپورٹنگ بدستور کک اور خان کو دوہری سطح پر کی جائے گی۔

نئی سمت یا روایتی تسلسل؟

یہ سب کچھ ایپل کو ایک نازک موڑ پر لے آیا ہے، جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوگا: کیا وہ پرانی قیادت پر انحصار جاری رکھے گی یا کوئی نیا، جرت مندانہ قدم اٹھائے گی؟ ایک ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ کمپنی کسی نمایاں مصنوعی ذہانت کی کمپنی کو خرید لے نہ صرف اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے، بلکہ شاید قیادت کے لیے نیا خون لانے کے طور پر۔ذرائع کے مطابق، ایپل نے پہلے ہی Perplexity پر تجربات کیے ہیں اور وہ Mistral جیسی کمپنی کے حصول پر بھی غور کر سکتی ہے۔ البتہ، ایپل کی محتاط سرمایہ کاری پالیسی کو دیکھتے ہوئے جس کے تحت اس نے آج تک تین ارب ڈالر سے زائد کی کوئی ڈیل نہیں کی یہ امکان فی الحال کمزور نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button