سرورققومی خبریں

شادی شدہ ہو کر ناجائز تعلق قائم کیا،خاتون بھی برابر کی قصوروار:سپریم کورٹ

تعلق تھا رضامندی کا، جرم نہ بنائیں ڈرامہ: عدالت نے خاتون کی اپیل خارج کی

نئی دہلی، 17 جولائی (اردو دنیا نیوز):سپریم کورٹ نے ایک شادی شدہ خاتون کی جانب سے ایک مرد پر "جھوٹے شادی کے وعدے پر ریپ” کا الزام لگانے کے مقدمے میں ضمانت منسوخ کرانے کی کوشش کو سختی سے رد کرتے ہوئے حیران کن ریمارکس دیے۔جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیسور سنگھ پر مشتمل بنچ نے واضح الفاظ میں کہا:"آپ شادی شدہ ہیں، دو بچوں کی ماں ہیں، آپ ایک بالغ اور سمجھدار خاتون ہیں، آپ کو معلوم تھا کہ آپ شادی سے باہر رشتہ قائم کر رہی ہیں۔ یہ بھی جرم ہے۔”خاتون کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مرد نے ان کے مؤکلہ کے ساتھ شادی کے جھوٹے وعدے پر جنسی تعلقات قائم کیے، اور بارہا ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں بلایا۔ جس پر عدالت نے سوال کیا:"جب آپ جانتی تھیں کہ آپ شادی شدہ ہیں، تو آپ بار بار کیوں گئیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ یہ بھی جرم ہے؟”

عدالت نے پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا، جس نے انکت برنوال کو قبل از گرفتاری ضمانت دی تھی، اور خاتون کی درخواست کو مسترد کر دیا۔مکمل معاملہ 2016 میں اس وقت شروع ہوا جب مذکورہ خاتون اور برنوال کی سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ برنوال کے دباؤ پر اس نے اپنے شوہر سے طلاق لی، جو 6 مارچ کو مکمل ہوئی۔ طلاق کے صرف دو ہفتے بعد، خاتون نے برنوال سے شادی کا مطالبہ کیا لیکن اس نے انکار کر دیا۔اس انکار کے بعد، خاتون نے بہار پولیس میں اس پر جھوٹے وعدے پر جنسی استحصال کا مقدمہ درج کرا دیا۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو نوٹ کیا کہ برنوال نے طلاق کے بعد خاتون سے کوئی تعلق قائم نہیں کیا، جس بنیاد پر اسے ضمانت ملی۔

یہ فیصلہ ان بڑھتے ہوئے جھوٹے مقدمات پر عدلیہ کا سخت مؤقف ہے، جہاں رضامندی سے قائم تعلقات کو بعد میں استحصال کا رنگ دے کر قانونی کارروائی کا رخ دیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button