قومی خبریں

سپریم کورٹ کی ای ڈی پر سخت سرزنش: ’’سیاسی لڑائیوں کے لیے ایجنسی کا استعمال نہ کریں‘‘

"ہم خبریں یا یوٹیوب انٹرویوز نہیں دیکھتے"چیف جسٹس بی آر گوائی

نئی دہلی/21 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ آف انڈیا نے پیر کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائیوں پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی کو سیاسی لڑائیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی میں جسٹس ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے یہ ریمارکس دو مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران دیے۔ پہلے کیس میں ای ڈی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اُس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں وزیر اعلیٰ سدارمیہ کی اہلیہ بی ایم پاروتی اور وزیر شہری ترقیات سریش کے خلاف منی لانڈرنگ کی کارروائی کو خارج کر دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ میسور اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے مبینہ غیر قانونی سائٹ الاٹمنٹ سے جڑا تھا۔

عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ای ڈی کی اپیل خارج کر دی۔چیف جسٹس بی آر گوائی نے سماعت کے دوران سوال کیا کہ جب سنگل جج نے پہلے ہی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے، تو ای ڈی اب کیوں اپیل کر رہی ہے؟ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ سیاسی لڑائیاں عوام میں لڑی جانی چاہئیں، تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس میں نہ گھسیٹا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے مہاراشٹر میں ای ڈی کا تجربہ ہے، براہ کرم ہمیں سخت تبصرہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔”

ای ڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے اپیل واپس لینے کی پیشکش کی، جس پر عدالت نے کہا کہ وہ سنگل جج کے فیصلے میں کوئی خامی نہیں دیکھتی اور اے ایس جی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عدالت کو سخت تبصرے سے بچا لیا۔دوسرے کیس میں عدالت نے ای ڈی کی جانب سے سینئر وکیلوں کو محض قانونی رائے دینے پر سمن بھیجنے کے معاملے پر از خود نوٹس لیا۔ عدالت نے شدید تشویش ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات وکلا کی آزادی اور قانونی پیشے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

بنچ نے کہا کہ ای ڈی تمام حدود پار کر رہا ہے، اور ادارے کے لیے کچھ رہنما اصول طے کیے جانے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وکیل اور مؤکل کے درمیان ہونے والی گفتگو پر نوٹس کیسے جاری کیا جا سکتا ہے؟ ایسا کرنا وکیلوں کی پیشہ ورانہ ساکھ اور ان کی پریکٹس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ای ڈی نے سینئر وکیل اروند دتار اور پرتاپ وینوگوپال کو اقتصادی جرائم سے متعلق کیسز میں قانونی رائے دینے پر سمن بھیجے تھے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ صرف قانونی مشورہ دینے کی بنیاد پر وکیلوں کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، ایڈوکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن، ان ہاؤس لائرز ایسوسی ایشن سمیت کئی قانونی اداروں نے اس معاملے میں مداخلت کی درخواستیں دائر کیں۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے اور ای ڈی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صرف قانونی مشورہ دینے پر وکیلوں کو سمن جاری نہ کرے۔

چیف جسٹس آف انڈیا، بی آر گوائی نے پیر کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے خلاف بننے والے "بیانیے” پر ردعمل دیتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا، "ہم خبریں نہیں دیکھتے اور یوٹیوب انٹرویوز بھی نہیں دیکھتے

تشار مہتا نے مزید کہا،”کبھی کبھار عمومی مشاہدات کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ میں یہ ای ڈی کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی ذاتی رائے دے رہا ہوں کہ ایک ادارے کے خلاف منظم بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”چیف جسٹس گوائی نے جواب دیا،”ہمیں ای ڈی کی جانب سے اوور اسٹیپنگ کئی کیسز میں نظر آئی ہے، ایسا نہیں ہے کہ ہمیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔

"حال ہی میں علیل رہنے والے چیف جسٹس گوائی نے مزید کہا،"ہم خبریں نہیں دیکھتے، نہ ہی یوٹیوب انٹرویوز دیکھے ہیں۔ صرف گزشتہ ہفتے چند فلمیں دیکھنے کا موقع ملا۔”

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ای ڈی پر مسلسل سیاسی جانبداری اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات لگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا یہ دوٹوک مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ عدالت میڈیا کے بیانیوں سے متاثر ہوئے بغیر آئینی ذمہ داریوں کو نبھانے میں سنجیدہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button