دوا کے پیسے نہیں تھے، ایکسپائرڈ دوا دی… باپ کی گود میں بلکتا جنید یمنا پل پر دوڑتے ہوئے بھی موت سے نہ بچ سکا
"میں اسے بچا نہیں سکا، میرے پاس کچھ نہیں تھا… صرف دعا تھی اور وہ بھی کم پڑ گئی" – جنید کے والد نسیم
"جمنا پل بند تھا، اسپتال دور تھا، اور وقت کم… نسیم اپنے بچے کو گود میں اٹھائے دوڑتا رہا، لیکن زندگی ہار گئی”
ہمیر پور، اترپردیش :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کہلانے والے بھارت میں غربت ایک بار پھر ایک معصوم جان نگل گئی۔ ہمیرپور کے پٹھکانہ محلہ میں رہنے والے نسیم کے پاس بخار میں تڑپتے اپنے سات سالہ بیٹے جنید کے لیے دوا خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ لاچار باپ نے گھر میں رکھی پرانی (ایکسپائرڈ) دوا دے دی، جو اس کے لیے زہر بن گئی۔جنید کی حالت بگڑنے لگی تو گاؤں والوں نے ہمدردی سے 20 ہزار روپے چندہ جمع کیا۔
نسیم بیٹے کو لے کر اتوار کی شام کانپور کے ہسپتال کے لیے روانہ ہوا، لیکن مرمت کی وجہ سے یمنا پل بند تھا۔ مجبوری میں باپ نے بیٹے کو گود میں اٹھایا اور تقریباً 900 میٹر طویل پل کو دوڑتے ہوئے پار کرنے کی کوشش کی۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں باپ کو اپنے بچے کے ساتھ دوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ موت سے تیز نہ دوڑ سکا۔کانپور پہنچنے کے بعد نجی ہسپتالوں نے مریض کو داخل کرنے سے انکار کر دیا۔
آخرکار پیر کی دوپہر نسیم نے جنید کو ہالیٹ اسپتال میں داخل کرایا، مگر شام چار بجے اس کا انتقال ہوگیا۔نسیم ایک اسکریپ کا کام کرتے ہیں اور شدید مالی تنگی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ دوا ایکسپائر ہو چکی ہے۔ جنید اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور پہلی جماعت میں پڑھتا تھا۔یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے ٹوٹنے کی داستان ہے بلکہ نظام کی خامیوں اور بنیادی صحت کی سہولیات کی قلّت پر ایک تازیانہ بھی ہے۔



