قومی خبریں

سپریم کورٹ ممبئی ٹرین دھماکہ کیس میں بری کیے گئے ملزمان کی رہائی کے خلاف مہاراشٹر حکومت کی اپیل پر 24 جولائی کو سماعت کرے گا

کانوڑ یاترا کے راستے پر کیو آر کوڈ کا حکم برقرار، سپریم کورٹ کا روک سے انکار

نئی دہلی، 22 جولائی (اردودنیا.اِن/ایجنسیز):سپریم کورٹ نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ 24 جولائی کو مہاراشٹر حکومت کی اس اسپیشل لیو پٹیشن (ایس ایل پی) پر سماعت کرے گا، جس میں 2006 ممبئی لوکل ٹرین دھماکہ کیس میں 12 ملزمان کی بریت کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔چیف جسٹس بی آر گاوائی کی قیادت والی بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی درخواست پر فوری سماعت کی منظوری دی۔ مہتا نے کہا کہ یہ ایک "انتہائی سنگین” معاملہ ہے، جس میں کئی اہم قانونی نکات سپریم کورٹ کی توجہ کے متقاضی ہیں۔

یاد رہے کہ بمبئی ہائی کورٹ نے پیر کو 12 ملزمان کو بری کر دیا تھا، جن میں سے 5 کو سزائے موت اور 7 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جسٹس انیل کلور اور جسٹس ایس جی چانڈک کی ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوت قابل اعتماد نہیں ہیں، اور تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔2006 میں ہوئے ان بم دھماکوں میں محض 11 منٹ کے اندر ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سات دھماکے ہوئے، جن میں 189 افراد ہلاک اور 827 زخمی ہوئے تھے۔

یہ حملے ملک کی تاریخ کے بدترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتے ہیں۔نومبر 2006 میں اس کیس میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی، اور 2015 میں خصوصی ٹاڈا عدالت نے 12 افراد کو مجرم قرار دیا تھا۔ عدالت نے پانچ کو سزائے موت اور سات کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ملزمان نے اس فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں سے انہیں 19 سال بعد انصاف ملا۔اب سپریم کورٹ اس ہائی پروفائل معاملے میں فیصلہ دے گا کہ آیا ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے یا دوبارہ سماعت کی جائے۔


کانوڑ یاترا کے راستے پر کیو آر کوڈ کا حکم برقرار، سپریم کورٹ کا روک سے انکار

نئی دہلی، 22 جولائی۔:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانوڑ یاترا کے راستوں پر موجود ڈھابوں اور ریستورانوں پر لازمی کیو آر کوڈ کے اتر پردیش حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سپریم کورٹ نے منگل کو سماعت کی۔ عدالت نے حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کر دیا، جس کا مطلب ہے کہ کیو آر کوڈ کی شرط فی الحال نافذ العمل رہے گی۔

اتر پردیش حکومت نے کانوڑ یاترا کے دوران راستوں پر واقع تمام کھانے پینے کے مقامات پر مالکان کے نام والے کیو آر کوڈ آویزاں کرنے کا حکم دیا تھا، جس کا مقصد مبینہ طور پر شناخت اور شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔ لیکن درخواست گزاروں نے اسے مذہبی بنیادوں پر پروفائلنگ اور مسلم دکانداروں کے معاشی بائیکاٹ کی کوشش قرار دیا۔

درخواست گزاروں کی نمائندگی معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کی۔ انہوں نے دلائل دیے کہ حکومت کو یہ حکم نافذ کرنے سے قبل سپریم کورٹ سے اجازت لینا چاہیے تھی، خاص طور پر جب عدالت نے گزشتہ سال ایک مشابہہ معاملے میں ایسی ہی کوشش پر روک لگائی تھی۔

بینچ کی قیادت جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کے سنگھ کر رہے تھے۔ جسٹس سندریش نے کہا:

"میں ذاتی طور پر سیکولر سوچ رکھتا ہوں اور مجھے اس حکم سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر ریستوراں محض کانوڑ یاترا کے لیے اپنا مینو تبدیل کرتے ہیں تو یہ ایک تشویش کا موضوع بن سکتا ہے۔”

عدالت نے زور دیا کہ لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ کسی ریستوراں میں کیا کھانا تیار ہوتا ہے تاکہ مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ لیکن ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی کی روزی روٹی پر اثر نہ پڑے، اور اسی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی حتمی قدم اٹھایا جائے۔

ایڈوکیٹ برون سنہا نے وضاحت کی کہ عدالت نے صرف یہ حکم دیا ہے کہ تمام ہوٹل اور ریستوراں مالکان کو لازماً اپنے لائسنس اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ظاہر کرنے ہوں گے۔ عدالت نے دیگر متنازعہ امور پر فی الحال کوئی رائے دینے سے گریز کیا ہے۔


سپریم کورٹ نے زیر التواء بل پر فیصلہ لینے کی مدت طے کرنے کے لیے مرکز و ریاستوں کو نوٹس جاری کیا

نئی دہلی، 22 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے ایک اہم آئینی مسئلے پر مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ معاملہ صدر جمہوریہ اور ریاستی گورنروں کے پاس زیر التواء بلوں پر فیصلے کے لیے وقت کی حد مقرر کرنے کا ہے۔ عدالت نے عندیہ دیا ہے کہ اگست میں اس مسئلے پر مفصل سماعت کی جائے گی۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب رواں سال اپریل میں تمل ناڈو کے 10 بل، جو گورنر کے ذریعہ صدر کے پاس بھیجے گئے تھے، سپریم کورٹ میں چیلنج کیے گئے۔ عدالت نے نہ صرف ان بلوں کو منظور شدہ قرار دیا بلکہ گورنر اور صدر دونوں کے لیے تین ماہ کے اندر فیصلے کی مدت بھی طے کر دی۔سپریم کورٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ گورنر کے پاس ایسے کسی بل کو غیر معینہ مدت تک روکنے کا اختیار نہیں ہے۔

آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت گورنر کو وزیر اعلیٰ اور ان کی کونسل آف منسٹرس کے مشورے پر عمل کرنا لازمی ہے۔ عدالت نے گورنر آر این روی کے 2023 میں بلوں کو روکنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔اسی سلسلے میں صدر جمہوریہ نے سپریم کورٹ کو ایک صدارتی ریفرنس بھیجا، جس میں 14 اہم سوالات اٹھائے گئے۔ ان سوالات کی روشنی میں ایک آئینی بنچ تشکیل دی گئی ہے جو طے کرے گی کہ صدر اور گورنر کو بل پر فیصلہ لینے کے لیے کیا وقت کی کوئی معینہ حد ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ کا یہ قدم ایگزیکٹو اور عدلیہ کے اختیارات کے درمیان توازن اور آئینی تشریح کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button