قومی خبریں

کیرالہ حکومت کا تاریخی قدم: گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی ویکسینیشن سے سروائیکل کینسر پر قابو پانے کی کوشش

کیرالہ میں طلبہ کو ایچ پی وی ویکسین دی جا رہی ہے

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کیرالہ میں صحت عامہ کے شعبے میں ایک بڑے اقدام کے طور پر حکومت نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے تمام طلبہ کو انسانی پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسین دینے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ لڑکیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس اعلان کا انکشاف ریاست کی وزیر صحت ویئنا جارج نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا۔

ویئنا جارج نے بتایا کہ یہ اقدام وزیراعلیٰ کے اس وژن کے مطابق ہے جس کا مقصد کیرالہ کو سروائیکل کینسر سے پاک ریاست بنانا ہے۔

ایچ پی وی ویکسین عام طور پر 9 سے 14 سال کی عمر میں سب سے مؤثر ہوتی ہے، تاہم یہ 26 سال تک کی عمر تک دی جا سکتی ہے۔ ویکسین کی حتمی منظوری اور حکمت عملی آئندہ ہفتے ہونے والے ایک تکنیکی کمیٹی اجلاس میں طے کی جائے گی۔

وزیر صحت نے کہا کہ اس ویکسینیشن مہم کے ساتھ ریاست بھر میں طلبہ اور والدین کیلئے ایک آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ مکمل معلومات کے ساتھ والدین اور نوجوانوں کو اس اہم اقدام کا حصہ بنایا جا سکے۔ اسکول سطح پر خاص پیغامات دیے جائیں گے جو تکنیکی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ہوں گے۔

یہ ویکسینیشن مہم کیرالہ میں کینسر سے بچاؤ کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ریاست پہلے ہی "کینسر کیئر گرڈ” تشکیل دے چکی ہے تاکہ تشخیص اور علاج کے نظام کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔ حال ہی میں کیرالہ حکومت نے ‘آروگیہ آنندم، اکاٹم اربودم’ (صحت اور خوشی، کینسر سے نجات) کے نام سے مہم کا آغاز کیا جس میں اب تک 17 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔

محکمہ صحت کی کوشش ہے کہ ایچ پی وی ویکسین کی اس مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ طلبہ اس میں حصہ لیں تاکہ ریاست بھر میں سروائیکل کینسر کی شرح میں نمایاں کمی ممکن ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button