ٹیـــــــــــنڈے: قدرتی ٹھنڈک، وزن میں کمی اور صحت کے بیشمار فوائد کی سبزی
حکیم محمد عدنان حبان نوادر رحیمی شفاخانہ بنگلور
مختلف نام: اردو: ٹینڈے، ڈھینڈے، ہندی: ٹنڈا، پنجابی: ٹنڈو، ٹنڈے، سندھی: میہو، گجراتی: کنٹولا، مرہٹی: کنٹولی، سنسکرت: ڈنڈش، انگریزی Round Cucumber ۔
شناخت: ٹینڈا مشہور ترکاری ہے۔ گول چپٹا سا سبز زردی مائل پھل ہوتا ہے۔ اس کا تعلق لوکی، کدو، گھیا اور پیٹھے کے خاندان سے ہے، لوکی کی طرح یہ بھی بیل پر لگتا ہے، اسے ترکاری کے طور پر زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹنڈا گرمیوں کے موسم میں پیدا ہوتا ہے اور اس کی بیل پر پیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں۔ تاثیر میں یہ سرد تر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسم گرما میں گرم مزاج کے حامل افراد کے لئے ٹنڈے عطیۂ خداوندی ہیں۔
غذائی اجزا: ٹنڈے میں پروٹین، کیلوریز، فیٹ، کاربو ہائیڈریٹ، کیلشیم، فاسفورس، آئرن، کیروٹین اور فائبر جیسے غذائی اجزا کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
مزاج: سرد وتر۔ ذائقہ: قدرے تلخ۔ خوراک: بقدر ہضم۔
مقامِ پیدائش: اتر پردیش، بہار، پنجاب۔
افعال واستعمال: صفرا کو دفع کرتا ہے، بلغم پیدا کرتا ہے، دیر ہضم ہے، جمیع افعال میں کدو کے مثل ہے۔
پیشاب آور
ٹنڈے اپنی تاثیر کی بدولت پیشاب کی بندش کھول دیتا ہے، موسمِ گرما میں مثانہ کی گرمی اور پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے، اسی لئے ریگ یعنی پتھری کو توڑ کر پیشاب کے راستہ خارج کردیتا ہے۔
بلڈ پریشر
بلند بشار خون یعنی بلڈپریشر کے مریضوں کیلئے ٹنڈے بہت مفید ہیں۔ ٹنڈے کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں اور خون کے دوران کو اعتدال پر لاتے ہیں جس کی وجہ سے بلڈ پریشر نارمل ہوتا ہے۔
بخار
ٹنڈے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گرمیوں کے بخار کو رفع کرنے میں یہ بہت معاون ہے۔
وزن میں کمی
ٹنڈا موٹاپے سے نجات کیلئے مفید ثابت ہوا ہے، ٹنڈے کا رس یا جوس بغیر کسی چیز کے ملائے مستقل پینا موٹاپے کو کم کرتا اور وزن گھٹاتا ہے۔ نہار منھ اس کا رس ایک کپ کی مقدار میں پینا وزن میں کمی لاتا ہے اور کسی قسم کی کمزوری لائق نہیں ہوتی۔
جوڑوں کا درد
ٹنڈے کے استعمال سے متعدد قسم کے درد اور تکلیفوں سے نجات پائی جاسکتی ہے۔ ٹنڈے سے جلد کی سوزش بھی کم ہوتی ہے۔
جلد کی حفاظت
ٹنڈے میں کیروٹین کی کافی مقدار پائی جاتی ہے، جو چہرے کی رنگت نکھارنے میں نہایت کارگر ہے، یہ ترکاری داغ دھبوں اور جھائیوں سے جلد کو بچاتی اور بڑھاپے کے اثرات کو ختم کرتی ہے۔
گردوں کے امراض
ٹنڈا گردوں کی تکلیف میں بھی نہایت مجرب ہے۔ گردوں کے تمام امراض میں اِس کا رس یا شوربہ دار سادہ سالن گردوں کی بیماریوں کو رفع کرنے اور انہیں قوت دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
تسکینِ پیاس
ٹینڈے گرمیوں میں لو لگنے اور بدن کی خشکی کو دور کرتے ہیں، پیاس کو تسکین دیتے اور جسم میں پانی کی کمی کو دور کرتے ہیں۔
خشک کھانسی
موسمِ گرما میں حلق سوکھنے سے گلے میں سوزش ہو جاتی ہے، خشک کھانسی ہونے لگتی ہے، ٹینڈے اس مرض کی مجرب دوا ہیں۔
مصفی خون ومقویٔ دماغ
ٹنڈے کا مستقل استعمال ہاتھ پیروں کی جلن کو دور کرکے دورانِ خون کو بہتر بناتا اور فساد کو دور کرتا ہے، دماغ کو طاقت پہنچاتا ہے۔
ہڈیوں کی مضبوطی
ٹنڈوں میں وٹامن سی اور کیلشیم کی موجودگی کے سبب انسانی دانتوں اور ہڈیوں کو خصوصی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
بالوں کی سیاہی
ٹنڈوں کا جوس مستقل پینے سے بال مضبوط ہو جاتے ہیں اور عمر کے بڑھنے کے باوجود طویل عرصے تک بال لمبے وسیاہ رہتے ہیں۔
نظامِ انہظام
یہ دیر ہضم سبزی ہے، لیکن تیزابیت کو دور کرکے نظامِ انہضام کو درست کرتی اور معدے کے تمام امراض کو ختم کرتی ہے۔
خشک جلد
گرمیوں میں جلد روکھی اور خشک ہو جاتی ہے، یہ بدن کی خشکی کو دور کرتا ہے گرمی کے اثرات کو مٹاتا ہے۔
دماغی تھکان
دماغی کام کرنے والوں کے لئے یہ نہایت مفید سبزی ہے، طلبہ، صحافی، وکیل، اساتذہ اور دیگر دفتری کام کرنے والے لوگوں کا دماغ تھک کر سست ہو جاتا ہے۔
ٹنڈا دماغی تھکاوٹ دور کرکے رگوں میں جان پیدا کر دیتا ہے، اس کا کھانڈ یا مصری کے ہمراہ حلوہ بنا کر کھانا یا جوس بنا کر پینا مفید ہے۔
مقویٔ قلب
بعض اطباء کی رائے میں قلب کے لئے ٹنڈا ایک مخصوص غذا ہے۔ خفقان، حول، وحشت اور اختلاجِ قلب کو دور کرتا ہے۔ بشرطیکہ اعتدال سے مستقل استعمال کیا جائے۔
قبض کشا
ٹنڈا قبض کشا سبزی ہے۔ جو لوگ صرف چاول کھانے کے عادی ہوتے ہیں اور محنت کشی سے دور رہتے ہیں، انہیں عموماً قبض کی شکایت ہو جاتی ہے، چاول کھانے والوں کو رات کی سبزی میں ٹنڈے کھانا چاہئے، یہ پہلی خوراک سے ہی قبض کو توڑ دیتا ہے اور صبح پیٹ صاف کردیتا ہے۔ مستقل استعمال دائمی قبض سے نجات دیتا ہے۔
مقدارِ خوراک
بعض احباب سبزی کو بطور دوا استعمال کرتے ہیں، سبزی کے دو چار نوالے ہی کھاتے ہیں، حا لانکہ سبزی کو بطور غذا کھانا چاہئے۔ ایک وقت میں سو ڈیڑھ سو گرام سبزی ہر فرد کو کھانی چاہئے۔ ٹنڈا بھی اسی مقدار میں کھانا چاہئے۔
پکانے کی ترکیب
ٹینڈے پکاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ اس کا رنگ اور خوشبو قائم رہے۔ اس میں پانی حسبِ ضرورت شامل کریں، تیز آنچ پر نہ پکائیں، ہلکی آنچ رکھیں۔ تیز آنچ پر پکانے سے ٹینڈے کے غذائی اجزاء بالخصوص حیاتین الف کا کافی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ ٹنڈے کی سبزی میں ٹماٹر کا اضافہ مفید ہوتاہے۔ٹینڈے کے ساتھ سلاد کھانی چاہئے، یہ سونے پر سہاگہ کا کام کرتی ہے۔



