بین الاقوامی خبریں

” نمیشا پریا کی فوری پھانسی کا مطالبہ، مقتول کے ورثاء نے خون معاف کرنے سے انکار کر دیا”

"خون کا سودا نہیں ہوگا! طلال کے بھائی کا پریا کی فوری پھانسی پر اصرار"

صنعا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یمن میں مقامی تاجر طلال عبدو مہدی کے قتل کے کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقتول کے بھائی عبدالفتاح مہدی نے بھارتی نرس نمیشا پریا کو فوری پھانسی دینے کے لیے ایک بار پھر یمنی حکام کو باضابطہ خط بھیجا ہے۔عبدالفتاح مہدی نے اتوار، 3 اگست 2025 کو یمن کے اٹارنی جنرل جج عبدالسلام الحوثی کو مراسلہ روانہ کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نمشا پریا کی پھانسی کی نئی تاریخ فوری طور پر مقرر کی جائے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عدالت نے پہلے 16 جولائی کو سزا پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا، مگر بعد میں اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

عبدالفتاح مہدی کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود نئی تاریخ نہیں دی گئی اور مقتول کے ورثاء انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "ہم مجرمہ کو معاف کرنے یا کسی سمجھوتے پر رضامند ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔”

اس سے قبل بھی، 25 جولائی کو مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے ایک خط ارسال کیا گیا تھا جس میں اسی مطالبے کو دہرایا گیا۔ عبدالفتاح نے بھارتی میڈیا پر بھی تنقید کی اور کہا کہ معافی سے متعلق چلائی گئی خبریں گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:”طلال کا خون سمجھوتے کے بازار میں شے نہیں رہے گا، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔

"نمیشا پریا کو 2017 میں یمن کے رہائشی طلال عبدو مہدی کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے طلال کو بے ہوش کرنے کے بعد قتل کیا اور لاش کے ٹکڑے کر کے بیگ میں بند کر دیے۔یہ معاملہ نہ صرف یمن بلکہ بھارت میں بھی شدید توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں کچھ حلقے نمشا کے لیے معافی یا رحم کی درخواست کر رہے ہیں، لیکن مقتول کے اہل خانہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button