
‘ہم نے غلطی سے آپ کو نوکری دی۔9 ماہ بعد ہندی ٹیچر کو جھٹکا!
محکمہ تعلیم نے نوجوان کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کیا
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)حیدرآباد کے ایک نوجوان کو 9 ماہ تک سرکاری استاد کی ملازمت کرنے کے بعد اچانک ایک ایسا جھٹکا ملا جس سے وہ ابھی تک سنبھل نہیں پایا۔ اسے ہندی پنڈت کی نوکری ملی تھی، مگر اب اعلیٰ افسران نے اسے اطلاع دی ہے کہ یہ نوکری دراصل اسے "غلطی سے” دے دی گئی تھی اور اب وہ برطرف کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ جیا گوڑہ، حیدرآباد کے رہائشی کے ساتھ پیش آیا۔ وہ کئی برسوں سے سرکاری نوکری کے خواب دیکھ رہا تھا۔ 2024 کے ڈی ایس سی امتحان میں وہ کامیاب ہوا اور اکتوبر 2024 کو گوشاکٹ اسکول، آصف نگر منڈل میں ہندی پنڈت کی حیثیت سے جوائن کیا۔
9 ماہ تک وہ پرجوش ہو کر تدریسی خدمات انجام دیتا رہا، لیکن جولائی 29، 2025 کو اسے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس (ڈی ای او) کی طرف سے فون موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ جس عہدے پر وہ فائز ہے، اس پر دراصل ایک خاتون کو رکھنا تھا جس نے اس سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔
ڈی ایس سی 2024 میں ہندی پنڈت کے تحت 35 آسامیاں نکالی گئی تھیں۔ بی سی-ڈی زمرے میں ایک خاتون نے 58.30 نمبر حاصل کیے جبکہ مذکورہ نوجوان نے 52 نمبر حاصل کیے۔ خاتون کو ابتدائی طور پر مسترد کر دیا گیا تھا کیونکہ اسے رنگا ریڈی کا لوکل امیدوار سمجھا گیا، لیکن بعد میں اس نے دستاویزی ثبوت فراہم کر دیے کہ وہ حیدرآباد کی مقامی ہے۔
ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اب محکمہ تعلیم نے نوجوان کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے ڈی ای او آفس میں بلا کر برطرفی کے احکامات پر دستخط کرنے کو کہا گیا ہے، مگر وہ ابھی تک دفتر نہیں گیا۔
وہ اپنے گھر میں افسردہ بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے کہ:”میری محنت کا یہ صلہ ملا؟ سرکاری غلطی کی سزا مجھے کیوں؟ میرے خاندان کو سڑک پر مت لائیں۔”اس واقعے نے نظام کے نقائص کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں امیدواروں کے مستقبل سے یوں کھیلنا ایک عام بات بن گئی ہے۔



