بہار ووٹر لسٹ تنازع: زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا اعتراف: "کچھ غلطیاں فطری ہیں”
زندہ افراد کو مردہ قرار دینے پر سپریم کورٹ میں گرماگرم سماعت
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بہار میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (SIR) عمل کے خلاف دائر درخواستوں پر منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کا سنگین معاملہ سامنے آیا۔
سماعت جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جے باغچی کی بنچ کے سامنے ہوئی، جہاں آر جے ڈی لیڈر منوج جھا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے دعویٰ کیا کہ صرف ایک حلقے میں ہی 12 زندہ افراد کو مردہ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہار میں ایس آئی آر کے تحت 65 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جا چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف: "کچھ غلطیاں فطری ہیں”
الیکشن کمیشن کے وکیل راکیش دویدی نے تسلیم کیا کہ اس بڑے عمل میں کچھ خامیاں ہونا فطری بات ہے، تاہم یہ ایک مسودہ فہرست ہے اور اس پر دعوے و اعتراضات درج کروائے جا سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے سخت سوالات بنچ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ مکمل اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ تیار رہے، جن میں عمل شروع ہونے سے پہلے اور بعد ووٹروں کی کل تعداد اور مرنے والوں کے اندراج شامل ہوں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر بڑے پیمانے پر ووٹروں کو خارج کیا گیا ہے تو وہ فوری مداخلت کرے گی۔
آدھار کارڈ کو قبول نہ کرنے پر اعتراض
کپل سبل نے اعتراض اٹھایا کہ نئے ووٹر کے اندراج کے لیے فارم 6 میں آدھار کارڈ کو شناختی دستاویز کے طور پر قبول کیا جاتا ہے، لیکن SIR عمل میں آدھار کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری کی شہریت پر سوال ہے تو حکومت پر اس کا ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سبل نے عدالت کو بتایا کہ صرف 3.06 فیصد بہار کے شہریوں کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ، 2.7 فیصد کے پاس پاسپورٹ اور 14.71 فیصد کے پاس میٹرک کا سرٹیفکیٹ ہے، جبکہ باقی کے پاس آدھار یا راشن کارڈ ہے، جنہیں کمیشن اس عمل میں قبول نہیں کر رہا۔
بہار میں ووٹر لسٹ کا مسودہ یکم اگست کو شائع کیا گیا تھا، جبکہ حتمی فہرست 30 ستمبر کو جاری کی جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے لاکھوں اہل شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ یہ درخواستیں آر جے ڈی، ترنمول کانگریس، کانگریس، این سی پی، کمیونسٹ پارٹی، سماج وادی پارٹی، شیو سینا، جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی ہیں، جن میں یوگیندر یادو جیسے سماجی کارکن بھی شامل ہیں۔



