ٹرمپ کی زبان پر امن کے دعوے، دوسری طرف غزہ کو جنگ کا قبرستان بنانے کی تیاری
جنگیں روکنے کا کریڈٹ ٹرمپ کا، لیکن غزہ میں 60 ہزار نئے فوجی داخل
واشنگٹن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ کریڈٹ لے رہے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں چھ جنگیں روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو بھی ختم کرا دیں گے۔ تاہم اسی وقت مشرق وسطیٰ میں حالات ایک نئی کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے اور اسرائیل نے غزہ میں مزید 60 ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریزرو فوجیوں کو بلایا گیا ہے اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ کو مکمل طور پر فتح کرنے کا منصوبہ منظور کر لیا ہے۔ اس اقدام کے بعد غزہ میں تعینات اسرائیلی فوجیوں کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی ہے جسے حماس قبول کرنے پر تیار ہے، مگر اسرائیل نے اس پر کوئی مثبت جواب دینے کے بجائے فوجی طاقت بڑھانے کو ترجیح دی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جب تک حماس موجود ہے جنگ بندی کا معاہدہ ممکن نہیں۔
یورپ میں اسرائیل کے اہم اتحادی سمجھتے ہیں کہ اب نیتن یاہو کو جنگ بندی کی تجویز مان لینا چاہیے۔ لیکن اسرائیل کی پالیسی ہے کہ کسی بھی معاہدے سے پہلے غزہ سے حماس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین اور روس، آرمینیا اور آذربائیجان جیسے ممالک کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کرنے والے ٹرمپ بھی اسرائیل کے مؤقف سے اتفاق کر رہے ہیں۔ اس وقت جنگ بندی کے امکانات کمزور دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ اسرائیل فوجی طاقت کے ذریعے اپنی بالادستی ثابت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔



